محنت کا صلہ اہل خیانت سے نہ مانگو

احقر العباد محمد شمیم ‘دارالعلوم حسینیہ بوریولی

موجودہ دورِ حکومت میں مسلمانوں کی حالت شودر کے قریب پہنچ چکی ہے،اس کے وجوہات کیا ہیں؟ جب ہم یوپی کی سیاست کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ دلت، کفش دوز ،یادو، ان کی اپنی اپنی سیاسی پارٹیاں ہیں ، ان کا اتحاد بھی مضبوط ہے، یہ لوگ متحد ہو کر اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں، اور کامیابیاں بھی ان کے قدم چومتی ہوئی نظر آتی ہیں-

ہندوستان میں یوپی کی سیاست بہت اہمیت کی حامل ہے، بڑی پارٹیاں یوپی میں جیت کے سنہرے خواب دیکھتی رہتی ہیں، ماضی ستر سال کے دوران سب سے زیادہ حکومت کانگریس نے کیا لیکن اس کا رویہ مسلمانوں کے تعلق سے منافقانہ رہا ہے، چونکہ بٹوارے کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رہ جانے والے مسلمانوں کی تعداد تقریباً تین کروڑ تھی اور کانگریس کے اعلی عہدوں پر فائز مسلمانوں کے سیاسی رہنما رہ چکے تھے جن پر مسلمانوں کو اعتماد تھا، یہی وجہ ہے کہ مسلمان مسلم لیگ کے خاتمے کے بعد کانگریس کو اپنی پارٹی سمجھ کر ووٹ کرتے رہے –

مسلمانوں کو بٹوارے کا جو زخم لگا تھا اسے بھرنے میں برسوں گزر گئے، مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو گئی ، اور حربی سامان قصہ پارینہ بن گئے، حکومت میں حصہ داری برائے نام ہی رہ گئی، اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کانگریس نے کبھی بھی مخلص ہوکر مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ یہ لوگ ہمارے علاوہ کہیں جا بھی نہیں سکتے ہیں، بی جے پی کی پالیسیاں ہی ان کے خلاف ہیں تو یہ کمزور اور مجبور لوگ ہمارے ہی پارٹی میں شامل ہوں گے-
وقت گزرنے کے ساتھ یوپی میں دوسری پارٹیوں کا ظہور ہوا مثلاً سپا، بسپا، مسلمان کانگریس کی منافقت کو محسوس کر چکے تھے، تو ان پارٹیوں کو عروج پر پہنچانے کے لیے ان کا ساتھ دئیے، کہ شاید یہ بچھڑے طبقے سے تعلق رکھنے والے ہیں یہ ہمارے لیے کارآمد ثابت ہوں گے، شروع میں ان کے رہنماؤں نے ہمارا ووٹ حاصل کرنے اور اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے رہے، لیکن اخیر میں انہوں نے بھی دھوکہ دیا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج مسلمانوں کی حالت ایسی بدتر ہوچکی ہے کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے –
کانگریس کی منافقت تو جگ ظاہر تھی، ملا ملائم بھی سنگھیوں کے آلہ کار بنے آنکھ مچولی کھیلنے لگے، بہن جی کا کیا کہنا یہ بھی اپنی ذات برادری میں الجھ کر ہمارے حقوق سے زیادہ مورتیاں بنانے کی فکر میں مبتلا ہو گئیں، بہن جی کی دور اندیشی کہیں یا کج فہمی کہ یہ جیسے ناقص العقل ہیں ویسے ہی آدھا ادھورا اتحاد بھی کرتی ہیں پچھلے الیکشن میں انہوں نے کانگریس سے اتحاد کر لیا، اور اس مرتبہ اسی کانگریس سے خلع لیکر دوسری پارٹی سپا کے ہیرو سے اتحاد کر بیٹھیں، سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ آدھا ادھورا اتحاد کیوں کرتی ہیں، کیا انہیں سی ایم بننے کا سپنا ستائے جا رہا ہے،

یا یہ بھی آر ایس ایس کے نظریہ سے مغلوب ہو چکی ہیں-

وجوہات جو بھی ہوں لیکن یہ سب پارٹیاں ہمارے ووٹ سے مضبوط مستحکم ہوئی ہیں، اور جب یہ عروج پر پہنچ گئیں تو انہوں نے ہمیں دودھ میں گری ہوئی حقیر مکھی سمجھ کر باہر پھینک دیا، اچھا ہوا بی جے پی کی حکومت آئی کم از کم ہماری آنکھوں پر جو سیکولر پارٹیوں کی پٹی بندھی تھی کھل گئی، بی جے پی سے کیا گلہ شکوہ وہ جو کرتی ہے کھل کر کرتی ہے، شکوہ تو ان سیکولر پارٹیوں سے ہے جو ہمارے ووٹ کا استعمال کرکے حکومت حاصل کرتی ہیں اور اپنائیت کا مظاہرہ کرکے ہمیں ایسے دلدل میں گرا دیتی ہیں کہ ہم لوگ صرف اب بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں ، غضب تو یہ ہوا کہ ہماری حالت زار پر تماشائیوں کا ہجوم لگا ہوا ہے لیکن مددگار کوئی نہیں دکھائی دے رہا ہے، ہمارے مذہبی رہنما بھی یاس و ہراس میں مبتلا ہیں-
کسی نے کیا خوب ہی کہا ہے
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھی ڈھڑکنیں
جب بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے
غور طلب بات یہ ہے کہ اب ماضی میں جو غلطیاں عمداً سہواً ہوئی اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے،یہ تو طے شدہ بات ہے کہ آریس یس ہزار کوشش کر لے ہندوستان سے نہ اسلام اور نہ ہی مسلمان ختم ہو گا، جب ہم تین کروڑ بچے تھے تب تو ختم نہیں ہوئے تو ماشاءاللہ آج ہماری تعداد بیس سے پچیس کروڑ ہو گئی ہے-
لیکن یہ وقت محاسبہ مضبوط لائحہ عمل طے کرنے کا ہے جس سے ہم لوگ اس دلدل سے نکل سکیں جہاں پر سیکولر پارٹیوں نے ہمیں گرایا دیا ہے –
بی جے پی سے خیر کی توقع فضول ہے، سیکولر پارٹیوں پر مزید اعتماد سے ہمارا مستقبل بد ترین ہوتا جائے گا، اس لیے ہماری اپنی پارٹی ہونی چاہیے یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے، ہمارے سامنے نمونہ پیش کیا ہے مجلس اتحاد المسلمین کے اویسی صاحب اور اے آئی یو ڈی ایف کے مولانا بدرالدین اجمل صاحب نے اسی طرح سے اب ہمارے یوپی کے دانشوروں کو فکر کرنی چاہیے ایک مضبوط سیاسی پارٹی کا وجود عمل میں آجائے، آزمانے کے لیے ستر سال اور سیکولر پارٹیوں پر تکیہ لگائے بیٹھے رہیں گے، لیکن
اخیر میں یہ شعر زبان نوک آہی جائے گا کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو احساس جس کو اپنی حالت کے بدلنے کا،

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading