ماہِ عظمتِ رسالتﷺ ، سیرت النبیﷺ کے دوسرے لیکچر بعنوان زمانہ رسول اللہﷺ کا دشمن کیوں؟ کا کامیاب انعقاد
*وحدتِ اسلامی ہند، اکولہ کی سیرت النبیﷺ کو عام کرنے کی اہم کوشش*
اردھاپور (شیخ زبیر ) مومن پورہ مسجد اکولہ میں بعد نماز عشاء بضمن ماہ ِ عظمت رسالت خصوصی اجتماع کا دوسرا ہفتہ بعنوان زمانہ رسول اللہ کا دشمن کیوں؟ کامیابی سے منعقد ہوا۔ اس اجتماع کی شروعات حافظ افروز امانی صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ نعت کا نذرانہ اکولہ کے مشہور شاعر عرفان ظفر نے پیش کیا۔ اس اجتماع میں مولانا طاہر مظاہری صاحب اور مولانا مظفر علی مظاہری صاحب بطور مہمان خصوصی شریک محفل رہے۔
مقرر خصوصی سابق پروفیسر ابراہیم خلیل عابدی صاحب سابو صدیق کالج ممبئی، نے اپنے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے ہوئے اس طرح شروعات کی کہ رسول اللہﷺ سے محبت عین ایمان ہے۔ محبت میں آزمائش میں پورا اترنا اصل محبت ہے۔ اصل محبت یہی ہے کہ ہم آپ کی سیرت کو جانے اور اپنی زندگی میں سیرت طیبہ کو سرایت کریں۔ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے لوگ متاثر ہو آپ کی مدحت سرائی کرتے ہو جیسے مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب دی ہنڈریڈ میں رسول اللہﷺ کو پہلا نمبر دیا یہ ایک پہلو ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کیے گئے یہ بھی ایک پہلو ہے۔لیکن آپ کی عظیم شخصیت ہونے کے باوجود زمانہ آپ سے دشمن کیوں؟ حالانکہ کہ آپ خطاؤں سے پاک ہے، آپ کے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ایسی ہستی کے بھی دشمن ہو سکتے ہیں؟ اس کی کیا وجوہات ہیں۔کیا آپ کے دشمن اس لئے ہے کہ وہ آپ کو نہیں جانتے؟ یہ نہیں ہو سکتا آپ سے جانتے بوجھتے دشمنی کی جاتی ہے۔ آپ کی سیرت کو عام کیا جائے یہ اس مرض کی دوا نہیں ہے۔
آپ کی حیات میں بھی دشمن تھے آج بھی ہے اور تاقیامت آپ کے دشمن رہیں گے ساتھ ہی آپ کی ناموس پر جس طرح کل بھی جان دینے والے تھے آج بھی ہیں اور کل بھی موجود رہیں گے
ہر شیطان جن انس نبی کا دشمن ہے یہ اللہ کی مشیت ہے۔ آپ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمارا یہ امتحان ہوتا ہے کہ ہم ضروری اقدامات اٹھاتے ہیں یا نہیں۔ آپ کی ناموس پر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں یا نہیں۔ عنوان زمانہ رسول اللہﷺ کا دشمن کیوں؟ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے موصوف نے فرمایا کہ ابو جہل کی آپ سے دشمنی اس لئے تھی کہ وہ معاملات میں خیانت کرنے والا تھا اسلئے لیے حق غصب کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن رہیں گے۔ ابو لہب کی دشمنی آپ سے اس لیے تھی کہ ابو طالب آپ کی مدد سے جیت گئے اس لیے کمزور کی مدد کرنے کی وجہ سے آپ سے دشمنی ہے۔ اسی طرح کعب بن اشرف صرف اس لئے دشمن ہے کہ قانون کے دو پیمانے بنانے والے آپ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ نسلی تفاخر رکھنے والے آپ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ عبداللہ بن ابی حکمران بننا چاہتا تھا لیکن نہیں بن پایا اس لیے ناجائز طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے والے آپ سے دشمنی رکھتے ہیں۔
یہودی آپ سے اس لیے دشمنی رکھتے ہیں ۱) آپ بنو اسماعیل میں پیدا ہوئے۔٢) آپﷺ کی وجہ سے بنی اسرائیل کی امامت ختم ہوگی۔ ۳) قبلہ کی تبدیلی ہوگی۔
عیسائی تین وجوہات کی بنا پر آپ سے دشمنی رکھتے ہیں ۱) مذہبی: وہ عیسی علیہ السلام کو نبوت کا کلائمکس مانتے ہیں۔۲) سماجی: آپ کے آنے سے اونچ نیچ ختم ہوگی پادریوں اور چرچوں کی چوہدراہٹ ختم ہوگی۔ ۳) سیاسی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہی نجاشی کا قبول اسلام اور صرف سو سال میں اسلام یورپ میں داخل ہوگیا۔
صلیبی جنگوں کے درمیان من گھڑت کہانیاں گھڑی گئیں اور آپﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی۔مسلمانوں کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی ملی۔ علم کے ذریعے مسلمانوں پر حملے کیے گئے اسلام کی تصویر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا مستشرقین کے ذریعے اسلام کی کی تصویر کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیکس کے راستے آپﷺ پر حملے کیے گئے جبکہ کہ چرچوں میں بچے جنسی تشدد کے شکار پائے گئے۔
دشمنی کی ایک وجہ سائنس ہے جو قرآن کی ایک آیت کو بھی رد نہیں کرسکی، اس لیے وہ جل اٹھتے ہیں۔
دشمنی اس لئے کہ مسلمان آپﷺ کی ہر بات کو پتھر کی لکیر مانتے ہیں اور آپ کی شان میں جانوں کے نذرانے پیش کر دیتے ہیں۔
دشمنی اس لئے ہے کہ آج صرف اور صرف آپ کی دعویداری ہیں۔ دشمنی اس لیے ہے کہ ڈیڑھ ارب آپ کے نام لیوا ہے۔ چوبیس گھنٹے ہر لمحہ اذان کے ذریعہ آپ کا نام لیا جاتا ہے۔
دشمنی اس لئے ہے کہ آپ دنیا کے تمام انسانوں کے گواہ ہیں ایسا گواہ جو انہیں جہنم میں پہنچا رہا ہےایسے گواہ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ مغرب میں عیسائیت مردہ مذہب ہو گیا ہے چرچ خالی ہو رہے ہیں۔لیکن عالم اسلام میں اسلام کے معتقدین کی تعداد بڑھ رہی ہے آج بھی مسلمان اسلام کو نجات دہندہ مانتے ہیں۔ وہ گستاخ رسول کو برداشت نہیں کرتے، دین کے معاملے میں جذباتی ہوتے ہیں۔
دشمنی کی دیگر وجوہات
نظام عدل کو پیش کرنے کی وجہ سے دشمنی
عورتوں کی پاکیزہ تعلیمات کی وجہ سے دشمنی
دنیا کا میک اپ اور فیشن انڈسٹری ایک ہزار ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے جو صرف ایک حجاب کی وجہ سے برباد ہو رہی ہے۔
قوم پرستی کے خاتمے کی وجہ سے دشمنی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ آپﷺ کی سیرت کو صرف ہمیں عام ہی نہیں کرنا ہے ہے بلکہ آپ کے ذریعے برپا نظام کے غلبہ کے لیے جد و جہد بھی کرنا ہے۔
آخر میں مولانا طاہر مظاہری صاحب کی دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا اور آئندہ مزید دو ہفتے تک چلنے والی اس سیرت النبیﷺ لیکچر سریز میں عوام الناس سے مع دوست و احباب و گھر کی خواتین کے ساتھ شرکت کی درخواست کی گئی۔
