لینڈر ’وکرم‘ سے رابطہ کی امید ختم، اب ہماری ترجیح ’گگن یان مشن‘: اِسرو چیف

اِسرو کے سربراہ کے. سیون نے چندریان-2 مشن کے بارے میں کچھ اہم باتیں جمعہ کے روز بتائیں جس میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب لینڈر ’وکرم‘ سےر ابطہ کرنے کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’لینڈر کے ساتھ ہم رابطہ قائم کرنے میں اہل نہیں ہیں۔ اب ہماری اگلی ترجیح گگن یان مشن ہے۔‘‘


سیون نے چندریان-2 مشن سے متعلق ایک خوشخبری دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا آربیٹر بہت اچھی طرح کام کر رہا ہے اور امید ہے کہ وہ چاند کے متعلق کافی کچھ جانکاریاں اِسرو کو فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ آربیٹر میں 8 انسٹرومنٹس ہوتے ہیں اور سبھی انسٹرومنٹس صحیح طریقے سے کام کر رہا ہے۔ یہ انسٹرومنٹ علیحدہ علیحدہ طور پر الگ الگ کام کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 21 ستمبر یعنی آج سے چاند پر رات کی شروعات ہو رہی ہے اور تاریکی چھانے کے ساتھ ہی چندریان-2 کے لینڈر ’وکرم‘ سے رابطہ کرنے کی امیدیں بھی تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی دھیان دینے والی ہے کہ لینڈر کی زندگی چاند کے ایک دن یعنی زمین ے 14 دن کے برابر ہے۔ چونکہ 7 ستمبر کی صبح سافٹ لینڈنگ میں ناکام رہنے کے بعد لینڈر وکرم چاند کی سطح پر تیزی کے ساتھ گرا تھا، اور اب 21 ستمبر کو 14 دن مکمل ہو رہے ہیں، تو وکرم کی زندگی ویسے بھی ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ اب ’وکرم‘ کو چاند کی سرد رات اپنی آغوش میں لے لے گی اوریہ سردی اس کے لیے ہلاکت خیز ہے۔

ہندوستان بھلے ہی چاند پر لینڈر کی سافٹ لینڈنگ میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن آربیٹر شان سے چاند کا چکر لگا رہا ہے۔ اس آربیٹر کی مدت کار ایک سال طے کی گئی تھی، لیکن بعد میں اِسرو کے سائنسدانوں نے کہا کہ اس میں اتنا زیادہ ایندھن موجود ہے کہ تقریباً 7 سال تک کام کر سکتا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading