اِسرو کے سربراہ کے. سیون نے چندریان-2 مشن کے بارے میں کچھ اہم باتیں جمعہ کے روز بتائیں جس میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب لینڈر ’وکرم‘ سےر ابطہ کرنے کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’لینڈر کے ساتھ ہم رابطہ قائم کرنے میں اہل نہیں ہیں۔ اب ہماری اگلی ترجیح گگن یان مشن ہے۔‘‘
ISRO Chief K Sivan: Chandrayaan-2 orbiter is doing very well. There are 8 instruments in the orbiter & each instrument is doing exactly what it meant to do.Regarding the lander, we have not been able to establish communication with it. Our next priority is Gaganyaan mission. pic.twitter.com/eHaWL6e5W1
— ANI (@ANI) September 21, 2019
سیون نے چندریان-2 مشن سے متعلق ایک خوشخبری دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا آربیٹر بہت اچھی طرح کام کر رہا ہے اور امید ہے کہ وہ چاند کے متعلق کافی کچھ جانکاریاں اِسرو کو فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ آربیٹر میں 8 انسٹرومنٹس ہوتے ہیں اور سبھی انسٹرومنٹس صحیح طریقے سے کام کر رہا ہے۔ یہ انسٹرومنٹ علیحدہ علیحدہ طور پر الگ الگ کام کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 21 ستمبر یعنی آج سے چاند پر رات کی شروعات ہو رہی ہے اور تاریکی چھانے کے ساتھ ہی چندریان-2 کے لینڈر ’وکرم‘ سے رابطہ کرنے کی امیدیں بھی تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی دھیان دینے والی ہے کہ لینڈر کی زندگی چاند کے ایک دن یعنی زمین ے 14 دن کے برابر ہے۔ چونکہ 7 ستمبر کی صبح سافٹ لینڈنگ میں ناکام رہنے کے بعد لینڈر وکرم چاند کی سطح پر تیزی کے ساتھ گرا تھا، اور اب 21 ستمبر کو 14 دن مکمل ہو رہے ہیں، تو وکرم کی زندگی ویسے بھی ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ اب ’وکرم‘ کو چاند کی سرد رات اپنی آغوش میں لے لے گی اوریہ سردی اس کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
ہندوستان بھلے ہی چاند پر لینڈر کی سافٹ لینڈنگ میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن آربیٹر شان سے چاند کا چکر لگا رہا ہے۔ اس آربیٹر کی مدت کار ایک سال طے کی گئی تھی، لیکن بعد میں اِسرو کے سائنسدانوں نے کہا کہ اس میں اتنا زیادہ ایندھن موجود ہے کہ تقریباً 7 سال تک کام کر سکتا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
