لبنان میں تعینات ایرانی سفیر ان سینکڑوں افراد میں شامل ہیں جو منگل کے روز جنوبی بیروت اور لبنان کے کئی دیگر علاقوں میں ہونے والے ’پیجرز کے پراسرار‘ دھماکوں میں مبینہ طور پر زخمی ہوئے ہیں۔لبنان کے وزیر صحت کے مطابق پورے مُلک میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے اب تک 9 افراد ہلاک جبکہ 2750 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

لبنان میں تعینات ایرانی سفیر ان سینکڑوں افراد میں شامل ہیں جو منگل کے روز جنوبی بیروت اور لبنان کے کئی دیگر علاقوں میں ہونے والے ’پیجرز کے پراسرار‘ دھماکوں میں مبینہ طور پر زخمی ہوئے ہیں۔لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بیروت کے جنوبی مضافات اور کئی دیگر علاقوں میں پیجرز میں دھماکے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے بھی زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ بہت سے پیجرز کے پھٹ جانے کی وجہ سے اُن کے متعدد جنگجو بھی زخمی ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی افراد زمین پر بیٹھے یا لیٹے ہوئے ہیں تاہم کُچھ کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ غیر مصدقہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکانوں میں ہونے والے دھماکے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
حزب اللہ کے ایک عہدے دار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ غزہ جنگ کے متوازی 11 ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ ’اب تک کی سب سے بڑی سکیورٹی کی خلاف ورزی‘ ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ پیجرز کے پھٹنے سے زخمی ہونے والے افراد میں ڈاکٹر، مسلح افواج، حزب اللہ کے جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت نے ’پیجر‘ رکھنے اور ان کا استعمال کرنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سے دور رہیں۔اسرائیل کی جانب سے اب تک اس صورتحال پر کسی بھی قسم کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔تاہم اسرائیل بارہا متنبہ کر چُکا ہے کہ وہ حزب اللہ کو سرحد سے دور کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے۔
ہم ’پیجر‘ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

پیجرز چھوٹے وائرلیس آلات ہیں جو عام طور پر سیل فون کے بہت زیادہ عام ہونے سے پہلے مختصر ٹیکسٹ میسجز یا الرٹس بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ان کا کام وائرلیس نیٹ ورکس پر سگنل بھیجنے پر منحصر ہے، اور یہ بنیادی طور پر ہسپتالوں، اور دیگر جگہوں پر رابطے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
پیجرز کی دو اقسام ہیں:
ایک وہ پیجرز کہ جو صرف پیغامات وصول کر سکتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو پیغامات وصول بھی کر سکتے ہیں اور بھیج بھی سکتے ہیں۔ تاہم پیجرز کی یہ دونوں اقسام آج کل کے دور میں پائے جانے والے سمارٹ فونز کے مقاملے میں بہت محدود ہوتے ہیں۔
تاریخی طور پر، پیجرز کو ہنگامی صورتحال میں رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا یا ایسے حالات میں کہ جہاں لوگ براہ راست کالز کا جواب نہیں دے سکتے تھے، سمارٹ فونز کے آجانے کے بعد ان کے استعمال میں کمی واقع تو ہوئی، لیکن اب بھی کچھ صنعتوں یا شعبوں میں پیجرز کا استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیجرز میں ہمیشہ طاقتور سگنل آتا ہے۔ ہسپتالوں کے چند کمروں کو ایکس ریز کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے جہاں پر فون کے سگنل بلاک ہو جاتے ہیں۔ مگر پیجر کے ریڈیو سگنلز سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ تیز بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی سروسز میں فائدہ مند ہوتے ہیں۔
تاہم الیکٹرانک ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسمارٹ فونز کے لیے گرمی سے حفاظتی نظام کی موجودگی کی وجہ سے ان کی بیٹریوں کا پھٹنا مشکل ہوتا ہے، جو روایتی پیجرز کے برعکس ایسے حادثات کو ہونے سے روکتا ہے۔