خبر رساں ادارے اے ایف پی اور خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ واکی ٹاکی دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد نو سے بڑھ کر اب 14 ہو گئی ہے جبکہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 450 سے تجاوز کر گئی ہے۔
اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد کو پیٹ اور ہاتھوں پر زخم آئے ہیں۔لبنان میں کام کرنے والے امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیمیں ملک کے جنوب اور مشرق سمیت مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔حزب اللہ کے ارکان پر ان بڑے حملوں اور ان کے لیے اس وقت کے انتخاب کے بارے میں گذشتہ شب سے ہی بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
جن میں سے ایک یہ کہ اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ لبنانی گروہ حزب اللہ پر حملوں کے لیے اس وقت کا انتخاب ایک سخت پیغام دینے کے لیے کیا ہے۔ تاہم اس کے بعد اسرائیل کی شمالی سرحد پر جھڑپوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ان دھماکوں کی منصوبہ بندی ابتدائی طور پر حزب اللہ کے خلاف بھرپور حملے کا پہلا مرحلہ تھی مگر حالیہ دنوں میں اسرائیل کو تشویش ہونے لگی کہ شاید حزب اللہ ان کے منصوبے سے آگاہی رکھتی ہے اسی لیے جلدی میں یہ دھماکے کیے گئے۔
بدھ کے روز ہونے والے تازہ حملوں کے بعد دونوں وضاحتیں اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کا مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کی ایک منظم کوشش ہے (اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس میں اسرائیل کا ہاتھ تھا)۔
پیجرز اور واکی ٹاکیز جیسے آلات کو اب خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔ حزب اللہ کی اپنے اراکین سے رابطے کی صلاحیت کو تباہ کن حد تک نقصان پہنچا ہے۔اسرائیل کو توقع ہو گی کہ مواصلاتی نظام کی کمزوری عیاں ہونے پر شاید حزب اللہ ردِعمل پر مجبور ہو جائے یا شاید رابطے نہ ہونے کے سبب کم از کم کچھ عرصے کے لیے سرحد پار حملے کرنے سے باز رہے۔
یا شاید اسرائیل لبنان کے اندر کسی بڑی فوجی کارروائی کے لیے پوری جان لگا رہا ہے اور خوفناک حد تک اس آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔وجہ جو بھی ہو، یہ ساری صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔