لاک ڈاون میں جشن عید میلادالنبی ؐکیسے منایا جائے ؟

خلافت ہاوس ممبئی میں اھم میٹنگ کا انعقاد

ممبئی19 ستمبر :(یو این آی )لاک ڈاون میں عیدمیلادالنبی ﷺکس طرح منایا جائے اور جلوس میلادالنبی ؐکی کیا شکل ہونی چاہیئے اس بارے میں آل انڈیا خلافت کمیٹی کے کارگذار چیئرمین سرفراز آرزو کی قیادت میں ایک مشورتی میٹنگ خلافت ہاوس بائیکلہ میں منعقد ہوئی جس میں موجودہ حالات کا جائزہ لیا گیا اور حکومت مہاراشٹر سے اس بارے میں گائیڈ لائنس کے اجرا ٔ پر غوروخوض کیا گیا ۔ شرکائے میٹنگ میں موجودہ حالات کے پس منظر میں جلوس عید میلادالنبی ؐکو محدود پیمانے پر نکالنے کا مشورہ دیا اور ایسے مطالبات مرتب کیئے جن کو مہاراشٹر سرکار اپنی گائیڈ لائنس کا حصہ بنا سکے

۔یہ طئے پایا کہ جہاں ہر سال سیکڑوں کی تعداد میں ٹرک اس جلوس میں شرکت کرتے ہیں وہیں اس سال ان کی تعداد کو ۵۰۰؍تک محدود کر دیا جائے اور ہر ٹرک میں ۱۰؍سے زیادہ لوگوں کو سوار نہ کیا جائے ۔ ٹیمپو میں ۵؍لوگوں کو سفر کی اجازت ہو ۔ موٹر کاروں میں ڈرائیور کے علاوہ ۳؍لوگوں کوشرکت کی اجازت ہو اور ٹو وہیلر اور دو پہیہ گاڑیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے ۔ جلوس میں شریک گاڑیوں پر جھنڈے لگائے جائیں تا کہ ان کی الگ پہچان بن سکے ۔اس کے علاوہ جو استقبالی اسٹیج جلوس کے راستے میں لگائے جاتے ہیں انہیں حسب سابق اجازت دی جائے لیکن ان پر بھیڑ بھاڑ نہ کی جائے ۔جلوس کے شرکا ٔ ماسک پہن کر آئیں اور کورونا کی گائیڈ لائنس پر سختی سے عمل درآمد کریں ۔اس کے بعد شوشل ڈسٹینسنگ کے تقاضہ پورے کرتے ہوئےخلافت ہاوس بائیکلہ میں جلوس کے افتتاحی جلسہ کا اہتمام کرنے کی بھی اجازت ہو ۔

ان مطالبات کو لیکر ریاستی وزیر داخلہ انل دیشمکھ سے ایک نمائندہ وفد وزارت کے سکریٹری اور افسران کی موجودگی میں ملاقات کرے گا تا کہ گائیڈ لائنس کے اجرا ٔ پر تبادلہ خیال کے بعد مناسب احکامات مرتب کیئے جائیں ۔میٹنگ کے شرکا ٔ کا خیال تھا کہ ان کے جلوس کیلئے حکومت محدود پیمانے پر ہی سہی اجازت ضرور دے ورنہ عوام اپنے طور پر اگر جلوس نکالیں گے تو اس سے بدنظمی کا خدشہ رہے گا ۔اس میٹنگ میں مسلم کونسل کے صدر ابراہیم طائی ،عمر لکڑاوالا ، سہیل صبیدار ،ایوب میمن ،نبی اختر قریشی ، امین سلایا ، محمد علی رضوی ، شیر خان اور دیگر سماجی کارکنان نے شرکت کی ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading