لاتور ضلع کے بیشتر مزدور مزدوری کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور

مزدور اور اور انتظامیہ کے متضاد دعوے’ وزیر روزگار کے آبائی ضلع میں ہی مزدوروں کا برا حال 

لاتور(محمدمسلم کبیر)لاتور ضلع میں امسال موسم برسات میں انتہائی قلیل بارش ہونے سے فصل و پینے کے پانی کی قلت کا احساس موسم سرما سے ہی ہورہا ہے. اس لئے ضلع میں روزگار کا مسئلہ بھی آن کھڑا ہوا ہے.کسان و مزدوروں کو روزگار کی تلاش میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں.ضلع انتظامیہ کی جانب سے”مہاتما گاندھی قومی دیہی یقینی روزگار اسکیم”کے تحت مقامی سطح پر مطلوبہ طرز پر اتنے تعمیری کام جاری نہیں ہیں جس سے مزدوروں کے سامنے اپنی روزی روزگار کامسئلہ پیدا ہوگیا ہے.اس لئے بیشتر کسان و مزدور دیہی علاقوں سے نقل مکانی کرکے شہروں کی طرف کوچ کرنا پڑ رہا ہے.ضلع میں جاری 1302 تعمیری کاموں کے لئے 33 ہزار287 مزدور دستیاب ہیں.دیہی علاقوں کے مزدور طبقے کومقامی سطحوں پر ہی روزگار مہیا کرانے کی غرض سے حکومت نے مہاتما گاندھی قومی دیہی یقینی روزگار اسکیم  کا آغاز کیا ہے جس کے تحت لاتورضلع میں 2لاکھ 30ہزار98 ہزار خاندانوں میں سے 5لاکھ83 ہزار 360 مزدور رجسٹرڈ ہیں.اس اسکیم کے توسط سے ضلع پریشدکی جانب سے 34ہزار 19مختلف تعمیری کام دستیاب ہیں.لیکن ان کاموں کے لئے ماہر مزدوروں کی ضرورت ہے.ماہر مزدوروں کی تعداد انتہائی قلیل ہے.جس کے سبب اتنی بڑی تعداد میں مزدور دستیاب ہونے کے باوجود ضلع پریشد اپنے تعمیری کاموں کو انجام دینے سے قاصر ہے.اس کے باوجودحکومت نےایک اعلامیہ جاری کرکے غیر ماہر مزدوروں کو ہر حال میں یقینی مزدوری کے مواقع فراہم کرانے کی ہدایات دی ہیں.اس طرح ایک طرف انتظامیہ مزدوروں کی جانب سے روزگار کا مطالبہ نہ ہونے کا دعوی کررہی ہے تو دوسری جانب مزدور روزگار کی عدم دستیابی سے پریشان ہو کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں.ایک بات اس ضمن میں سامنے آئی ہی کہ کئی مقامات پر حکومت کی جانب سے جاری تعمیری کاموں کومزدوروں کے بجائے مشنریز وتکنیکی وسائل سے کروایاجارہا ہے اور مزدور برائے نام ہیں.بلکہ انتظامیہ اور تعمیری کام کے گتہ دار کی ملی بھگت سے مشنریوں اور تکنکی وسائل کے ذریعےاپنے کاموں سے جلد فراغت پاکر رقم وصول کی جارہی ہے.جس سے مزدوروں کو روزگار دستیاب نہیں ہو پا رہا ہے اور بعض کاموں پر رجسٹرڈ مزدوروں کے نام پر جعلی کارڈس اور مزدور کا اندراج کرکے گتہ دار اپنے کام انجام دیتے نظر آ رہے ہیں.ضلع انتظامیہ نے کسان و مزدوروں سے اپیل کی ہے کہ روزگار کی تلاش میں نقل مکانی سے گريز کریں.تمام رجسٹرڈ مزدوروں کو ان کے قریبی مقامات پر روزگار کے مواقع کروانے کے لئے انتظامیہ مستعدی سے کام کررہی ہے.لہذا مزدوروں کو چاہئے کہ وہ اپنے لئے روزگارکامطالبہ اپنے مقامی گرام پنچایت، تحصیلدار اور بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر سے تحریری طور پر کریں اس مطالبے کے بعد ان مزدوروں کے جاب کارڈ بنوا کر فوری ان کے قریبی علاقے میں روزگار مہیا کیا جائیگا.لاتور ضلع کے سپوت و ریاستی وزیر دیہی ترقیات و روزگار سمبھاجی راؤ پاٹل نلنگیکر کے پاس وزارت روزگار کا قلمدان بھی ہے لیکن ان کے ہی ضلع میں روزگار کی عدم دستیابی کے سبب مزدورں کی نقل مکانی ان کی اس معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہورہا ہے.حکومت کے شعبہ روزگار  نے غیر منظم تعمیراتی شعبے کے مزدوروں کو رجسٹرڈ کرواکر انھیں حکومت کے مختلف سہولیات مہیا کرانے کا فیصلہ کیا ہے.لیکن  وزیر روزگار و دیہی ترقیات نلنگیکر  کے ہی آبائی ضلع میں ہنوز 10 ہزار سے زائد تعمیری مزدورحکومت کے مختف فلاحی اسکیمات سے استفادہ حاصل کرنے سے محروم ہیں. اسسٹنٹ لیبر کمشنر لاتور کے دفتر میں موجود اندراج کے مطابق گذشتہ تین برسوں سے کسی قسم کی اسکیمات سے ان مزدور مستفید نہ ہو سکے.حکومت مہاراشٹر نے تعمیرعمارات و شوارع سے منسلک مزدوروں کے لئےروزگار اور خدمات کےلئے قوانین بنانے، انھیں تحفظ فراہم کرنے اور ان کے صحت و فلاح کے لئے سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے”مہاراشٹر تعمیرات عمارات و شوارع و دیگر تعمیرات کے مزدوروں کا بہبودی بورڈ "قائم کیاہے.اس بورڈ کے تحت تعمیراتی مزدوروں کارجسٹریشن کیاجاتاہے.اور مستحق مزدوروں کو حکومت کی جانب سے معلنہ اسکیمات سے مستفید کیاجاتا ہے.اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ مزدوروں کا اندراج کرانے کی کوشش کی جاتی ہے. حکومت ان مزدوروں کے لئے بیمہ، اسکالرشپس، اعلی تعلیم کے لئے وظائف و مالی امداد، پہلی شادی کے لئے مالی امداد، زچگی کے لئے مالی امداد،جائے وقوع پر موت واقع ہونے یاحادثے میں موت ہونے پر مالی امداد،تجہیز و تکفین میں تعاون، وارثین کو سالانہ مالی امداد اس طرح کے 19 مختلف  اہم اسکیمات کا شمار ہے. لیکن ان میں سے بیشتر اسکیمات سے لاتور ضلع کے مزدور ہنوز محروم ہیں.  

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading