قوم کو خدمتِ خلق اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق کردار اپنانے کی ضرورت ہے: مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی

ملک میں نفرت کے مقابلے میں محبت کا آغاز کردار کی اصلاح سے ہوگا، مسلمانوں کو سیاسی طور پر بھی متحد ہونا چاہیے

ناندیڑ (ورق تازہ نیوز):قومی صدر مجلس احرار الاسلام، حضرت مولانا محمد عثمان صاحب رحمانی لدھیانوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج کے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ہے۔ اصل گفتگو تو رات کے پروگرام میں ہوگی، لیکن میں تمام لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ملک میں سب سے بڑی ظلمت اس وقت یہ ہے کہ ہم خدمتِ خلق کے ساتھ ساتھ اسلام کے اصل پیغام کو لوگوں تک نہیں پہنچا پا رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ سب لوگ مسلمان بن جائیں، بلکہ اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے جو اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں، ان کا ازالہ کیا جائے۔ جب ہم اپنے کردار کے ذریعے اسلام کی اصل تعلیمات پیش کریں گے تو ان شاءاللہ نفرت کے بعد محبت کا آغاز ہوگا۔

مولانا نے کہا کہ کلمہ طیبہ میں ’’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘‘ کے اندر ہی وفاداری کا پیغام موجود ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دے کر یہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ اس کی وفاداری محمد رسول اللہ ﷺ سے ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا کردار اس وفاداری کی عکاسی کرتا ہے؟ اگر ہمارا کردار سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو جائے تو کوئی حکومت بھی ہمارے راستے میں رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے ہر عمل کو حضور ﷺ کی سیرت سے کمپئر کریں۔ نوجوان طبقے کو خاص طور پر سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنانا چاہیے۔ اس سے ان کی غلط فہمیاں دور ہوں گی اور پریشانیاں آسانیوں میں بدل جائیں گی۔

مولانا نے کہا کہ حال ہی میں ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں نے سیلاب زدگان کی خدمت کے لیے جو عملی اقدامات کیے، وہ ایک خوش آئند ٹرینڈ ہے۔ یہ صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں رائج ہونا چاہیے کہ جہاں بھی ضرورت ہو، مسلمان خدمت میں سب سے آگے رہیں۔

فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اس وقت بھارتی مسلمان عملی طور پر وہاں جا نہیں سکتے، لیکن سیاسی طور پر ایک مضبوط لائحۂ عمل طے کرنا ضروری ہے۔ جو مسلمان جس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے، اسے اپنی پارٹی کے قائدین سے ملاقات کر کے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ فلسطینی عوام کے حق میں پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی جائے تاکہ بھارت اقوام متحدہ میں یہ پیغام دے سکے کہ اس کے مسلمان شہری فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برادریاں تقسیم کے لیے نہیں بلکہ پہچان کے لیے ہیں، اس لیے ہمیں نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چل کر آپس میں بھائی چارہ قائم رکھنا چاہیے۔

مولانا نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی کمزوری سیاسی عدم استحکام ہے۔ اگر ہم سیاسی طور پر مضبوط ہو جائیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں انتخابات سے کوئی غرض نہیں، وہ دراصل خودکشی کی بات کرتے ہیں۔ جب تک ہم اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی درج نہیں کرائیں گے، ہماری بات کون سنے گا؟

انہوں نے زور دیا کہ مسلمان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے کام کریں۔ ملک میں کروڑوں ہندو ایسے ہیں جو محبت، امن اور بھائی چارے کے قائل ہیں۔ اگر ہم عوامی سطح پر ان سے روابط بڑھائیں گے تو فرقہ وارانہ فاصلوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔

مولانا نے نوجوانوں کے نشے کی لت کے بارے میں کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری مساجد سماجی زندگی سے منقطع ہو چکی ہیں۔ نبی ﷺ کے زمانے میں مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ تربیت، کھیل اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مساجد کو سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں سے جوڑنا چاہیے۔ اگر نوجوانوں کو مسجد سے جوڑنا ہے تو ان کے لیے فٹبال یا کرکٹ ٹیمیں بنائی جائیں، اور ان سے شرط رکھی جائے کہ جو پانچ وقت کی نماز پڑھیں گے، وہی ٹیم کے رکن یا کپتان بن سکیں گے۔ اس طرح ان کی تربیت بھی ہوگی اور نشے جیسی برائیوں سے بچاؤ بھی ممکن ہوگا۔

آخر میں مولانا نے کہا کہ:

“ہمیں باہر کے لیڈروں کا انتظار چھوڑ کر اپنے ہی درمیان سے باصلاحیت علما، نوجوانوں، ڈاکٹروں اور انجینیئروں کو آگے لانا چاہیے۔ جو لیڈر قوم کو عزت نہ دلا سکے، وہ لیڈر نہیں۔ قوم کو اپنے لیڈروں کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ وہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اپنی مؤثر نمائندگی کر سکیں۔”


کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس خبر کا پیشہ ورانہ اردو نیوز اینکر انداز میں وائس اوور بھی تیار کر دوں؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading