حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ’فریم ورک معاہدے‘ کو مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کے خلاف اور اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سنیچر کے روز جاری بیان میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ’اس معاہدے کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل کیا جانا چاہیے اور اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رہنی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے انخلا کو حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کرنا ایک ’انتہائی خطرناک تجویز‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ معاہدہ اسرائیلی قبضے کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے اور لبنانی علاقوں کے الحاق کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔‘
ارنا کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے دعویٰ کیا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان کے خلاف جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے 60 روز میں مکمل انخلا کی ضمانت دی گئی تھی، جبکہ موجودہ معاہدے میں لبنان نے اپنی سفارتی برتری اور مزاحمت کی طاقت کھو دی ہے۔‘
انھوں نے اس معاہدے کو ’ذلت آمیز، شرمناک اور خودمختاری سے دستبرداری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حزب اللہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔‘