قبائلیوں کو یکساں سیول کوڈ سے باہر رکھا جائے,پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں شیوسینا ٗ بی ایس پی ٗ بی آر ایس نے یو سی سی کی حمایت کی

نئی دہلی:3/ جولائی ( ایجنسیز) بی جے پی رکن پارلیمنٹ سشیل کمار مودی نے شمال مشرق اور دیگر علاقوں کے قبائلیوں کو کسی بھی امکانی یکساں سیول کوڈ(یو سی سی) کے دائرہ سے باہر رکھنے کی وکالت کی۔ان کی صدارت میں پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں آج بعض اپوزیشن ارکان نے سوال اٹھایا کہ لا کمیشن نے متنازعہ مسئلہ پر مشاورت کیوں شروع کی ہے۔بیشتر اپوزیشن ارکان بشمول کانگریس اور ڈی ایم کے نے یو سی سی پر زور دینے کو آئندہ لوک سبھا الیکشن سے جوڑکر دیکھا۔

شیوسینا کے سنجے راوت نے کہا کہ کئی ممالک میں یکساں سیول قانون موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف فرقوں اور علاقوں کی تشویش کا جائزہ لینا چاہئے۔ انہوں نے بھی سوال اٹھایا کہ الیکشن سے قبل اس پر کیوں زور دیا جارہا ہے۔کانگریس کے مانیکم ٹیگور نے سوال اٹھایا کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ الیکشن سے جڑا ہے۔ بی جے پی کے مہیش جیٹھ ملانی نے تاہم یو سی سی کا پرزور دفاع کیا۔ انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں ہونے والی بحثوں کا حوالہ دیا۔

سشیل مودی نے کہا کہ قبائلیوں کو مجوزہ یو سی سی سے باہر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی قوانین میں استثنیٰ ہوتا ہے۔ میٹنگ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مرکزی قوانین بعض شمال مشرقی ریاستوں میں لاگو نہیں ہیں۔لا کمیشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 13 جون کو جاری پبلک نوٹس کے بعد سے اسے تاحال 19 لاکھ تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے 31 ارکان کے منجملہ 17نے آج کے اجلاس میں شرکت کی۔بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی سشیل مودی نے میٹنگ کی صدارت کی۔

سشیل مودی نے میٹنگ میں شمال مشرقی اور دیگر علاقوں کے قبائلیوں کو کسی بھی ممکنہ یکساں سول کوڈ کے دائرے سے باہر رکھنے کی وکالت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس اور ڈی ایم کے سمیت بیشتر اپوزیشن جماعتوں نے عام انتخابات کے پیش نظر یو سی سی کے حوالے سے حکومت کے فیصلے پر تنقید کی۔ ذرائع نے بتایا کہ توقع کے مطابق بی جے پی لیڈروں نے یو سی سی کی حمایت کی۔ کانگریس اور ڈی ایم کے ممبران پارلیمنٹ نے تحریری بیانات پیش کئے ۔

کانگریس ایم پی وویک تنکھا اور ڈی ایم کے ایم پی پی ولسن نے میٹنگ میں تحریری بیانات پیش کئے۔ انہوں نے یو سی سی کو اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے جوڑا۔ جبکہ شیو سینا اور بی ایس پی نے یو سی سی کی مخالفت نہیں کی بلکہ اسے مشروط حمایت دی۔ دونوں جماعتوں کا کہنا تھا کہ یو سی سی کو عام انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ لایا جائے۔ کے سی آر کی پارٹی بی آر ایس نے یونیفارم سول کوڈ کی حمایت کی ہے۔ پی ایم مودی کے بیان کے بعد عام آدمی پارٹی نے بھی یو سی سی کی حمایت کی ہے۔

اجلاس میں تفصیلی تجاویز پیش کی گئیں۔ شرد پوار کی قیادت والی نیشنل کانگریس پارٹی (NCP) نے نہ تو UCC کی حمایت کی ہے اور نہ ہی حمایت کی ہے یعنی یہ غیر جانبدار ہے۔ ساتھ ہی نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ حکومت کو بار بار یو سی سی کو لاگو کرنے کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading