فرقہ وارانہ جھڑپ کے معاملے میں مسلمانوں کے مکان منہدم

بھوپال: مدھیہ پردیش کے منڈسور میں نوراتری کے ساتویں روز 2 اکتوبر کو ایک تیز رفتار موٹر سائیکل کے مسئلہ پر 14 سالہ سلمان خان اور 32 سالہ شیولال پاٹیدار کے درمیان تنازعہ فرقہ وارانہ جھڑپ میں تبدیل ہوگیا جس کے بعد پولیس نے اس تنازعہ کے تین مسلم ملزمین کے مکانات منہدم کردیئے۔

نیوز کلک کی اطلاع کے مطابق یہ واقعہ ایک گربا تقریب کے مقام کے قریب موضع سرجانی میں پیش آیا تھا۔ اس گاؤں میں 100 سے زیادہ مکانات ہیں جن کے منجملہ 29 مسلمانوں کے ہیں۔ واقعہ پیش آنے کے بعد پولیس نے 19 مسلمانوں کے خلاف کیس درج کرلیا اور نابالغ لڑکے سلمان سمیت 7 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اُن پر گربا تقریب پر سنگباری کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

ایف آئی آر درج کرنے کے 12 گھنٹوں کے بعد ضلع انتظامیہ نے تینوں ملزمین کے مکانات کے باہر بلڈنگ پرمیشن کی نوٹسیں لگادیں۔ اس کے دوسرے دن تینوں مکانات منہدم کردیئے گئے۔ علاوہ ازیں واقعہ پیش آنے کے دن ایک ہجوم نے رات 10:45 بجے ایک ٹرک کو آگ لگادی جو ایک مسلم شخص کی ملکیت تھا۔

تاہم ٹرک کے مالک انصار خان نے آتشزنی کی واردات کے خلاف شکایت درج نہیں کرائی کیونکہ دیہاتیوں نے انہیں انتباہ دیا تھا کہ اگر وہ ایف آئی آر درج کرانے پولیس اسٹیشن گئے تو انہیں سنگین نتائج و عواقب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سب ڈیویژنل مجسٹریٹ سندیپ شیو نے نیوز کلک سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تینوں ملزمین بشمول سلمان کے والد اکلوپٹھان، سہیل کے والد جعفرخان اور رئیس خان کے مکانات پنچایت ڈپارٹمنٹ سے بلڈنگ پرمیشن لئے بغیر تعمیر کئے گئے تھے۔ 3 اکتوبر کو ایک نوٹس لگائی گئی تھی اور اس کے دوسرے دن مکانات کو منہدم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمین کو اپنی بات پیش کرنے کیلئے کافی وقت دیا گیا۔ 2 اکتوبر کو تیز رفتار ڈرائیونگ پر بحث و تکرار ہوئی تھی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading