پشاور:پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے حکام نے تصدیق کی ہے انڈیا سے پاکستان آنے والی خاتون انجو نے نصراللہ کے ساتھ نکاح کر لیا ہے تاہم سرکاری حکام، نکاح خواں اور دیگر ذرائع کی جانب سے تصدیق کے باوجود انجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شادی کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مالاکنڈ کے ریجینل پولیس آفیسر (آر پی او) ناصر محمود ستی نے انڈین خاتون انجو اور نصراللہ کے نکاح کی تصدیق کی ہے جبکہ نکاح خواں قاری شمروز خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے فاطمہ (انجو) کا نصراللہ کے ساتھ نکاح دس ہزار روپے اور دس تولے سونا حق مہر کے عوض پڑھایا ہے۔
قاری شمروز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے نکاح پڑھانے کے لیے نصر اللہ نے بلایا تھا جو میرے جاننے والے ہیں۔ ہم ایک ہی علاقے کے رہنے والے ہیں۔ وہ دونوں اب قانونی طور پر میاں بیوی ہیں۔‘
تاہم بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری سے بات کرتے ہوئے انڈین خاتون انجو نے کہا کہ ان کی شادی کی خبر ’بے بنیاد‘ ہے اور یہ کہ وہ کل (منگل) واپس انڈیا جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ نکاح کے بعد عدالت میں اس کی تصدیق اور بیان جمع کروانے کے موقع پر ’نوبیاہتا جوڑے‘ کو مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی اور ان کی ’پرائیویسی‘ کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔