اسرائیلی فوج کی غزہ میں جارحیت جاری ہے۔ اس کا فوجی آپریشن مختلف طریقوں سے جاری ہے۔ چینل 13 نے اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی پر جنگ کے ایک نئے مرحلے میں جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔
تیسرے مرحلے کی تفصیلات
اسرائیلی اخبار "یدیوت احرونوت” کے مطابق اسرائیلی فوج مکمل طور پر لڑائی کے تین مراحل کے آخری مرحلے میں پہنچ گئی۔ صہیونی فوج نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر وہاں چھاپے مارنے کے بعد علاقے کو چھوڑ دیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی آپریشن کا تیسرا مرحلہ خاص طور پر شمالی غزہ میں شروع ہوا اور اس کے لیے 3 علاقوں میں مکینوں کی واپسی کی ضرورت ہے۔ اسرائیل اس مرحلہ میں تین علاقوں کے لیے حماس سے الگ مقامی انتظامیہ بھی تشکیل دے گا۔بیت حانون، بیت لاھیا اور عطاطرہ کو "انسانی بلبلے” قرار دیا جائے گا۔
فوج نے بریگیڈ اور بٹالین کی سطح پر بھی اہداف مقرر کیے ہیں جس کا مقصد بنیادی طور پر اپنے دعوے کے مطابق حماس کی مزاحمت کو کم کرنے کے لیے زمین کے اوپر اور زیر زمین جنگی فارمیشنوں کو تباہ کرنا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی افواج حماس کے جنگی ڈھانچے کو ختم کر چکی ہیں اور اہداف کو کمزور کرنے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے دعوے کے مطابق یہ مرحلہ حماس کو اپنی صفوں کو منظم کرنے پھر بار بار حملہ کرنے کرنے سے روکے گا اور حماس کی موجودگی کو اس سطح تک کم رکھے گا کہ اس سے غزہ کے اطراف کی بستیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کی پٹی میں تیسرے مرحلے میں ہونے والی اس لڑائی میں اسرائیلی فورسز مزید چھاپہ مار کارروائیاں کریں گی۔ وہ ایک بار، دو بار اور تین بار ایک ہی محلے یا قصبے میں واپس آئیں گے جہاں انٹیلی جنس کو حماس کے دوبارہ منظم ہونے کا نوٹس ملے گا۔ تیسرے مرحلے کا مقصد حماس کی ایک فوجی تنظیم کے طور پر واپسی کو روکنا اور اسے بھاگنے پر مجبور کرنا ہے۔
مذاکرات کی کوششیں
تیسرا مرحلہ اس وقت شروع ہو رہا ہے جب مصر، قطر اور امریکہ سمیت ثالثوں نے کئی مہینوں سے جنگ بندی تک پہنچنے اور غزہ میں موجود 120 کے قریب اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے سے جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے اور غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا کا باعث بننا چاہیے۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس وقت جنگ بندی قبول کرے گا جب تک حماس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ دریں اثنا حماس نے اعلان کیا کہ اس نے مذاکرات کی شرائط میں بنیادی ترمیم نہیں کی ہے۔
تحریک کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نزل نے کہا ہے کہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ تاہم وہ اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں گے تاکہ مذاکرات ناکام نہ ہوں۔ انہوں نے ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ جنگ بندی کی تجویز اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں کوئی بنیادی ترمیم نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ثالثوں کے ہاتھ میں لچکدار فارمولیشنز موجود ہیں لیکن مستقل جنگ بندی ضروری ہے۔ اس تجویز میں پہلے مرحلے میں 6 ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی شرط موجود ہے۔