غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ کے دوران مقامی فلسطینی آبادی کو بے گھر کرنے کےمنصوبے کے ساتھ انہیں ایک بار پھر ھجرت پرمجبور کرنے کی خفیہ اسکیمیں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔ اسی ضمن میں اسرائیلی وزیر خزانہ اور شدت پسند لیڈر بزلئیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ ’اسرائیل کو غزہ میں دو ملین فلسطینی آبادی کسی صورت میں قبول نہیں‘۔
غزہ کی پٹی میں بیس لاکھ فلسطینی
اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق اتوار کے روز سموٹریچ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو ایسی صورت حال کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں غزہ کی پٹی میں بیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد جنگ کے خاتمے کے بعد کے دن کے مسئلے کی بات چیت کا حصہ ہے اور اس کا طریقہ کار تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پربحث جنگی کونسل کا نہیں بلکہ کابینہ کا کام ہے جس میں ان کی جماعت بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب ایسی صورتحال کی اجازت نہیں دے گا جس میں غزہ میں 20 لاکھ لوگ رہتے ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر غزہ میں ایک یا دو لاکھ عرب ہوتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب اسرائیلی وزیر خزانہ نے غزہ کی آبادی کے بارے میں متنازع بات کی ہے۔
گذشتہ نومبر میں سموٹریچ نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے مغربی کنارے میں بفر زون بنانے کا مطالبہ کیا تھا جہاں سے عرب داخل نہیں ہوں گے۔ اس سے فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک ردعمل سامنے آیا اور اس نے سموٹریچ کے بیان کو "نوآبادیاتی، نسل پرستانہ اور مغربی کنارے کو ضم کرنے کے قابض اسرائیل کے عزائم کا آئینہ دار قرار دیا تھا‘‘۔