علی سہراب( کاکاوانی) کا شاہین باغ اورنگ آباد میں خطاب

اورنگ آباد :آج سرزمینِ دکن اورنگ آباد دو مہمانانِ تشریف لائے تھے قوم کے ہمدرد نوجوانوں نے اورنگ آباد میں دلّی گیٹ کے قریب ایک شاہین باغ آباد کیا ہے جس سے وابستگان کے حوصلوں کو جِلا بخشنے کے لیے مہمان تشریف لائے تھے، دونوں کی آمد کا مقصد سیاہ قانون کے تئیں بیداری پیدا کرنا تھا۔ ان میں سے ایک سوشل میڈیا پر اپنے بیباک تبصروں اور مراسلوں کے سبب مشہور صحافی’ علی سہراب تھے اور دوسرے جامعہ ملّیہ کے لائق اور جیالے فرزند’ دلنواز حسین تھے۔

رات شاہین باغ میں دونوں ہی خطاب کریں گے اس سے بیشتر سوشل میڈیا پر فعّال صارفین کی ایک خاص نشست منعقد کی گئی، جس کی نظامت جناب عبدالوہّاب صاحب نے بحسن و خوبی انجام دی، محفل کا آغاز تابش سحر کی تلاوت سے ہوا۔ جامعہ کے فرزند دلنواز حسین نے بتایا کہ سیاہ قانون مسلمانوں کے وجود اور ان کی شناخت پر سیدھا حملہ ہے، یہ فقط دستور و آئین بچاؤ تحریک کا حصّہ نہیں اگر ایسا ہوتا تو صرف مسلم محلّات میں شاہین باغ آباد نہ ہوتے، ریلیوں اور دھرنوں میں صرف مسلمان سراپا احتجاج کی تصویر بنے نظر نہ آتے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے افراد شانہ بشانہ کھڑے ہوتے اور ملک بھر میں احتجاجات کی ایک الگ ہی پہچان ہوتی۔ علی سہراب کاکاوانی نے دوٹوک انداز میں کہا مسلمان آخر کب تلک سیکولرازم اور آئین کی حفاظت کی ذمیداری اکیلے اپنے کندھوں پر ڈھوتے رہیں گے، کیا ان کے علاوہ دوسرے ہندوستانیوں کی کوئی ذمیداری نہیں۔ ہم اپنے آپ کو سیکولر دکھانے کے لیے اور کتنی قربانیاں پیش کریں گے،

شریعت میں مداخلت، بابری مسجد کا سانحہ اور کشمیر کے ابتر حالات’ ہر جگہ ہم نے مصلحت اور سکوت کا دامن تھام لیا لیکن سیاہ قانون کے نفاذ نے سوئی ہوی قوم کو جگا دیا ہے، بیدار کردیا ہے، ماؤں بہنوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر تحریک کو زندگی اور توانائی بخشی ہے، یہ لڑائی لمبی چلے گی ہمیں اسی طرح عزم و استقامت کے ساتھ ﷲ پر بھروسہ کرتے ہوے جمے رہنا ہے، ڈٹے رہنا ہے۔ اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ چلا، کئی دلچسپ سوالات پوچھے گئے۔ ایک نوجوان نے موجودہ حالات کے حوالے سے استفسار کیا کہ وجود کی اس لڑائی میں لدیدہ، عائشہ، شرجیل اور عمر خالد جیسے نوجوان ابھر کر سامنے آئے ہیں تو کیا ہم یہ امید کرسکتے ہیں کہ آئندہ بھی یہ قیادت کا بارِ گراں اپنے دوشِ ناتواں پر اٹھا سکیں گے؟ دلنواز حسین نے سوال کا جواب دیتے ہوے کہا کہ "ہماری قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی کا انتظار تو کرتے ہیں مگر اس کا ساتھ دینے کا عزم و ارادہ نہیں رکھتے، جس کے سبب ہمارے نوجوان قیادت کا تاج اپنے سے سجا نہیں پاتے، ہم بحیثیتِ قوم نکھرنے اور ابھرنے والے جوانوں کے پیچھے کھڑے نہیں ہوتے، اس کو سہارہ فراہم نہیں کرتے جس کے سبب امت کا یہ عظیم سرمایہ ضائع ہوجاتا ہے۔ کاکاوانی کے مطابق کنہیا کمار کو بڑا بنانے والے ہم ہی لوگ ہیں لیکن اپنوں پر ہم وہ کرم فرمائی نہیں کرتے، کاکا نے علماءِ امت کی تنگ نظری کا بھی شکوہ کیا کہ ہماری ماؤں بہنوں ہی نے اس تمام تحریک کو جان بخشی ہے اور علماء درمیان میں آکر شریعت سمجھانے لگتے ہیں۔ مارکنڈے کاٹجو پر تبصرہ کرتے ہوے انہوں نے بتایا کہ جب کچھ مسلم خواتین برقعہ پہن کر ہندوانہ رسومات کو فروغ دے رہی تھی تو اس وقت کاٹجو خاموش تھے آج جب یہ برقعہ پہن کر اپنے حق کا مطالبہ کررہی ہے تو کاٹجو کی طبیعت کیوں خراب ہوگئی؟

ایک خاتون نے دریافت کیا کہ ان احتجاجات سے کیا ملنے والا ہے جبکہ وہ صاف طور پر کہہ چکے ہیں کہ "ہم ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں” جواب دیا گیا کہ لکھنؤ میں سیاہ قانون کی تائید میں محفلیں سجانا، آسام کے دورے منسوخ کرنا، وزیرقانون کا بات چیت کے لیے حامی بھرنا سب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اب ان احتجاجات سے پریشان ہوگئے ہیں، بوکھلا گئے ہیں اورنگ آباد کے شاہین باغ زنجیری احتجاج کے 24 دن مکمل ہوئے ہیں اور یہ احتجاج مسلسل جاری رہے گا مرکزی حکومت دہلی شاہین باغ میں احتجاج کر رہے احتجاجیوں سے بات چیت کرنے تیار ہے لیکن شاہین باغ کے لیگل ایڈوائزر محمود پراچہ نے دو ٹوک موقف رکھا کہ حکومت سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرے کے ملک میں این آر سی اور سی اے اے نافذ نہیں ہوگا ہم بات چیت کرنے تیار ہے اورنگ آباد شاہین باغ کمیٹی نے اپنی قرار داد میں واضح کیا جب تک دہلی کا شاہین باغ آباد رہے گا تب تک اورنگ آباد کا بھی شاہین باغ آباد رہے گا اسلئے یہ احتجاج جاری ہے شہریان کثیر تعداد میں شرکت کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading