عموماً علما کے بچوں کی شادیوں میں تینی تعلیمات پر عمل کی زیادہ توقع کی جاتی ہے مصرکے ایک سرکردہ عالم دین الشیخ رمضان عبدالرزاق مصری مبلغ الشیخ رمضان عبدالرزاق کی صاحب زادی ’نوران‘ کی حال ہی میں ہونے والی شادی سوشل میڈیا پر اس لیے طنز اور تنقید کی زد میں ہے کیونکہ موصوفہ نے ایک عالم دین کی بیٹی ہونے کے باوجود نہ تو چہرے کا حجاب کیا اور نہ ہی سرکے بالوں کو ڈھانپا تھا۔ حتیٰ کہ اس کا تازہ میک اپ بھی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ علامہ رمضان کی بیٹی کی شادی میں مصرکی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر سے منسلک علما کی بڑی تعداد بھی موجود تھی اور کسی عالم دین نے بھی مولانا صاحب کی صاحب زادی کے حلیے پر اعتراض نہیں کیا۔الشیخ رمضان عبدالرزاق کو فیس بک پلیٹ فارم کے صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تندو تیز تبصروں میں صارفین نے کہا کہ اگرایک عالم دین کی بیٹی بھی ایسا کرے گی تو عام لوگ دینی تعلیمات پر کیسے عمل پیرا ہوں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک” کےصارفین نے الشیخ رمضان کے ٹیلی ویژن انٹرویوز کے دوران مردوں کی طرف سے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کے کپڑوں کے معاملے میں محتاط رہنے کے الفاظ یاد دلائےجن میں انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے خاندان کی خواتین کے اسلامی لباس کا خاص خیال رکھیں، تاہم خود انہوں نے اس کے برعکس کیابہت سے فیس بک صارفین نے مشہور مبلغ کی بیٹی کی شادی کی تصاویر شیئر کیں جن میں اسے بغیر حجاب کے دکھائی دینے پر تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ “بھائی رمضان عبدالرزاق کی بیٹی کی خوشی کا ایک برا مطلب ہے جو ہمیں اس کی بات سننے سے گریز کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مذہب کی دعوت دینے والے ایک مبلغ کے طور پر ہم اسے ایک مفکر کے طور پر سن سکتے ہیں، لیکن ایک اسلامی مبلغ کے طور پر نہیں۔ مذہبی اسکالرز کو خبردار رہنا چاہیے کہ ان کا رویہ اور ان کے خاندانوں کا برتاؤ خوردبین کے نیچے ہے‘‘۔
مصری عالم دین رمضان عبدالرزاق شادی کی تقریب کے دوران بیٹی کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کی صاحب زادی نوران کا نکاح گذشتہ جمعہ کو قاہرہ کے الشیخ زید علاقے میں واقع پولیس مسجد کے ہال میں ہوا۔ نکاح کے موقعے پر جامعہ الازھر کے علما کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان میں مصر کی سپریم اسلامی کونسل کے چیئرمین الشیخ خالد الجندی بھی موجود تھے۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ الشیخ رمضان نے اپنے خاندان پر اس کا اطلاق نہیں کیا جسے وہ مسلمانوں پرلاگو کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ”منشیات بیچنے والا خود اسے استعمال نہیں کرتا”۔
علامہ رمضان نے تنقید مسترد کردی
دوسری جانب سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد الازہر میں دعاۃ کی سپریم کمیٹی کے رکن الشیخ رمضان عبدالرزاق نے کہا کہ وہ اپنے بارے میں اٹھائے جانے والے تمام تبصروں کو مکمل طور پرمسترد کرتے ہیں۔مصر میں اسلامی امور کی سپریم کونسل کے رُکن الشیخ خالد الجندی نے شیخ رمضان عبدالرزاق کی بیٹی کی شادی کے بعد سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والے تنازعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس معاملے کا دفاع کیا۔
