عطاءحیدرآبادی کی شاعری میں دکنی روایات کی خوشبو پائی جاتی ہے

ناندیڑ:15جنوری ( ورقِ تازہ نیوز) دکن کے طنز و مزاح کے معروف شاعر وحیداللہ خان عطائ حیدرآبادی کے اعزاز میں بروز ہفتہ 14 جنوری کو دوپہر دفتر ” ورقِ تازہ“ میں ایک شاندار تہنیتی نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔ نشست کی صدارت شہر کی معزز شخصیت خورشید احمد نے کی۔ عطا حیدرآبادی کو سعودی عربیہ کی ایک تنظیم حیدرآباد دکن کنکشن نے یوم جمہوریہ ہند کے موقع پر 26 جنوری 2023ءکو الجبیل میں منعقد شدنی مشاعرے میں مدعو کیا ہے۔ چنانچہ انہیں شہر ناندیڑ کے ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور معزز شخصیات کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔

اپنی صدارتی تقریر میں خورشید احمد نے عطا حیدرآبادی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے شعراءکی جوان نسل سے اپیل کی کہ وہ اپنے کلام میں اُن شہداءاور غازیوں کا بھی ذکر کریں جنہوں نے اسلام کی بقاءاور سربلندی کے لیے معرکے انجام دیئے۔ اپنی قربانیاں دے کر اسلام کے پرچم کی حفاظت کی۔ خورشید احمد نے بتایا کہ شہر ناندیڑ اپنی شرافت، خلوص، محبت،نرم مزاجی، نیکی اور انسانیت نوازی کی وجہہ سے جانا جاتا ہے اور یہ صفات عطاءحیدرآبادی کی شخصیت میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ مدیر اعلیٰ ” ورقِ تازہ“ محمد تقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عطاءحیدرآبادی نے اپنے کلام کے باعث ملک گیر شہرت حاصل کرلی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں سعودی عربیہ کے مشاعرے میں باوقار طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ ان کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں مخصوص دکنی زبان اور شعری روایات کی خوشبو پائی جاتی ہے۔

عطاءنے سنجیدہ شاعری سے اپنا شعری سفر شروع کیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے اپنی راہ بدل دی اور طنز و مزاح میں شعر کہنے لگے۔ آج پورے ملک میں اردو شاعری اور نثر میں طنز و مزاح میں لکھنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہے جبکہ قارئین و سامعین طنز و مزاح کی شاعری اور نثری تخلیقات پڑھنا اور سننا پسند کرتے ہیں۔ عطاءحیدرآبادی قومی سطح کے مشاعروں میں کلام سناکر مشاعرے لوٹ لیتے ہیں ۔ انھوں نے شعر وادب میں اپنا ایک مقام بنالیا ہے۔ محمد تقی نے عطاءحیدرآبادی کو ادارہ ورقِ تازہ کی جانب سے مبارکباد پیش کی اور انہیں عمرہ کی سعادت نصیب ہونے پر مسرت کا اظہار کیا۔ شہر کے بزرگ شاعر محمود علی سحر نے اپنی تقریر میں کہا کہ عطائ حیدرآبادی نے ملک گیر سطح پر شہرت حاصل کی ہے وہ سعودی عربیہ کے شہر الجبیل میں مشاعرہ پڑھنے جارہے ہیں۔ یہ ہمار ے لئے اور شہر ناندیڑ کے لیے خوشی کی بات ہے۔

اُن سے پہلے بھی شہر کے چار شعراءنے بین الاقوامی مشاعرے پڑھے ہیں ان شعراءمیں اُن کا، تمیز احمد پرواز اور مرحوم عظمت اللہ خان بھیلاواں کا شمار ہوتا ہے۔ دکن کے معروف شاعر تمیز احمد پرواز نے تہنیتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ عطاءکو میں ایک عرصے سے جانتا ہوں۔ مشاعروں میں ہم ایک ساتھ کلام پڑھتے رہے ہیں۔ انھوں نے بہت پہلے طنز و مزاح میں شعر کہنے شروع کئے تھے لیکن انھیں شناخت اب ملی ہے۔

صاحب اعزاز عطاءحیدرآبادی نے تمام سامعین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے مزاج میں ظرافت بھری ہوئی ہیے۔ اس لئے انھوں نے طنز و مزاح کی راہ اختیار کی۔ ابتداءمیں مرحوم اخترالزماں ناصر سے اصلاح لی۔ اس طرح ان میں شعرکہنے کی ہمت پیدا ہوئی۔ میرا تعلق شہر کے محلہ گاڑی پورہ سے ہے۔ میرا پوار بچپن بڑی درگاہ شریف کی سیڑھیوں پر گزرا ہے۔ مرحوم مولوی م۔ خ۔ شاذلی نے میری رہنمائی کی اور میں نے ان کی مدد سے ادیب کامل کا امتحان بھی پاس کیا۔ حیدرآباد سے میٹرک کیا۔ ناندیڑ میں گریجویشن کیا۔ شعر و شاعری کا شوق تھا۔ شعر کہنے لگا اور مشاعرے پڑھنے لگا۔ آج اس شوق نے مجھے یہاں تک پہونچا دیا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ روزنامہ ” ناندیڑ تحریک“ کے ایڈیٹرالطاف ثانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے عطاءحیدرآبادی کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔سہیل احمد صدیقی اور ظہیر الدین بابر نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے۔ اس تہنیتی نشست میں عبدالسلام، یوسف خان پٹیل، محمد نقی شاداب،محمد غفران نبیل بھی موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت مشہور ناظم مشاعرہ اور شاعر ظہیر الدین بابر نے کی۔ آخر میں صاحب اعزاز کی کثرت سے گلپوشی کی گئی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading