گزشتہ شب عراق میں امریکی سفارت خانہ اور فضائیہ اڈے پر راکیٹ حملہ کے بعد امریکہ نے انتباہ دیا ہے کہ وہ ایران کے 52 اہداف پر نشانہ لگائے گا۔ اس انتہائی کشیدہ صورت حال کے حوالہ سے کئی میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔
ایرانی سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور اس نے پورے مشرق وسطی میں حالات انتہائی کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔
If Iran strikes American assets, US will hit 52 Iranian sites, warns Trump
Read @ANI Story |https://t.co/84OICwAFGA pic.twitter.com/XoEcKwvX5Q
— ANI Digital (@ani_digital) January 5, 2020
ہفتہ کی رات بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ داغے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے امریکی املاک یا شہریوں پر حملہ کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ نے ایران سے کہا، ’’باز نہیں آئے تو برباد کر دیں گے۔‘‘
ٹرمپ نے کہا ’’ایران اسے ایک انتباہ کے طور پر سمجھے کہ اگر وہ کسی بھی امریکی یا امریکی املاک پر حملہ کرتا ہے تو ہم نے 52 ایرانی مقامات کی نشاندہی کر رکھی ہے جو کہ ثقافتی طور پر ان کے لئے انتہائی اہم ہے‘‘۔ امریکی صدر نے کہا ’’ایران اس دہشت گردی کے بدلے انتہائی جرات کے ساتھ امریکہ کی کچھ املاک کو نشانہ بنانے کے بارے میں بات کر رہا ہے جس نے ایک امریکی کو مار ڈالا تھا اور کئی دوسرے لوگوں کو بری طرح سے زخمی کر دیا تھا‘‘۔
انہوں نے کہا ’’مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب میں القدس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیماني نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کو مارا ہے اور جس میں حال ہی میں ایران میں ہلاک شدگان مظاہرین بھی شامل ہے‘‘۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سلیمانی نے بغداد میں ’امریکی سفیر پر حملہ کیا تھا اور دیگر مقامات پر حملہ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔‘
قبل ازیں، ایران نے امریکہ کو انتباہ جاری کرتے ہوئے جمکران مسجد کے گنبدپر سرخ پرچم لہرا دیا ہے۔ سرخ پرچم کو جنگ کے لئے تیار رہنے کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ایرانی فوج کے کمانڈر جنرل غلام علی ابو حمزہ نے کہہ چکے ہیں کہ جہاں بھی موقع ملا امریکیوں کو جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی سزا دیں گے۔ سرخ پرچم لہرانے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی عراق میں واقع امریکی سفارت خانے اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا اور چار راکٹوں اور مارٹروں سے حملہ کیا گیا۔
They attacked us, & we hit back. If they attack again, which I would strongly advise them not to do, we will hit them harder than they have ever been hit before! https://t.co/qI5RfWsSCH
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 5, 2020
دریں اثنا، ٹرمپ نے مزید ٹوئٹ کر کے ایران کو دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے لکھا، ’’انہوں نے ہم پر حملہ کیا ہم نے اس کا جواب دیا۔ اگر انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو ہم ایسا زور دار حملہ کریں گے جیسا ان پر کبھی نہیں ہوا ہوگا۔‘‘
ٹرمپ نے دیگر ٹوئٹ میں لکھا، ’’امریکہ نے جنگی ساز و سامان پر دو ٹریلین ڈالر خرچ کیا ہیں۔ ہم دنیا میں سب سے بڑے اور بہترین (عسکری قوت) ہیں۔ اگر ایران نے امریکہ فضائی اڈے یا کسی امریکی شہری پر حملہ کیا، تو ہم ’برینڈ نیو‘ اور خوبصورت ساز و سامان روانہ کر دیں گے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے!‘‘
The United States just spent Two Trillion Dollars on Military Equipment. We are the biggest and by far the BEST in the World! If Iran attacks an American Base, or any American, we will be sending some of that brand new beautiful equipment their way…and without hesitation!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 5, 2020
دریں اثنا، برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ذریعہ ایرانی فوج کے ایک اعلی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد جنگ زدہ حالات کے درمیان اپنے بحری جہاز مشرق وسطی بھیجے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ مشرقی وسطی میں کشیدگی بڑھنے کے دوران برطانوی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز پر اپنے دو جنگی جہاز تعینات کرے گا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-