ممبئی:8جنوری : رشوت لیتے ہوئے کسی آفیسر یا ملازمین کو حراست میں لینے کے بعد عدالت کے حتمی فیصلہ تک متعلقہ آفیسر و ملازم کا نام یا تصویر کو مخفی رکھنے کا عجیب مطالبہ گزیٹیڈ آفیسر مہاسنگھ نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک میمورنڈم وزیر اعلیٰ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر پھڑنویس کو دیا گیا ہے۔ ریاستی سرکاری ملازمین اور افسران کے سلسلے میں اینٹی کرپشن بیورو یا دیگر جرائم کے سلسلے میں کارروائی کرنے کے بعد متعلقہ محکمہ کی جانب سے اس مشتبہ ملازم یا آفیسر کا نام ذرائع ابلاغ میں تشہیر کیا جاتا ہے۔
تاہم اکثر مشاہدہ میں آیا ہے کہ رشوت کے الزام میں حراست میں لیے گئے آفیسر یا ملازم عدالت میں بے قصور پائے گئے۔ لیکن حراست میں لیے جانے کے بعد سے عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک ذرائع ابلاغ میں شائع خبر کی وجہہ سے اُن کی کافی بدنامی ہوچکی ہوتی ہے اور انہیں اور ان کے افراد خانہ کو سماج کی برہمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالت میں باعزت بری کیے جانے کے بعد انہیں پہنچنے والی ذہنی اذیت کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ ایسے واقعات ملازمین کے انسانی حقوق کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ جوکہ ملازمین اور ان کے افراد خانہ کے ساتھ ایک بڑی ناانصافی ہے۔
اس لیے اینٹی کرپشن بیورو یا دیگر محکمہ کے تحت کی گئی کارروائی کے بعد مشتبہ ملزم پر عدالت میں الزام ثابت ہونے تک ان کا نام اور تصویر ذرائع ابلاغ یا کسی دیگر طریقے سے مشتہر نہ کیا جائے، اس طرح کے احکامات حکومت کو دینے چاہئیں۔ اس طرح کا مطالبہ گزیٹیڈ آفیسرز مہاسنگھ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ میمورنڈم پر مہاسنگھ کے چیف ایڈوائزر کلتھے، صدر ونود دیسائی، جنرل سیکریٹری سمیر بھاٹکر و دیگر کے دستخط ثبت ہیں۔