عآپ رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے کئی ٹھکانوں پر ’اے سی بی‘ ٹیم کی چھاپہ ماری، 12 لاکھ روپے نقد برآمد

نئی دہلی:16/ستمبر(ایجنسیز) عآپ رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے گھر اور پانچ دیگر ٹھکانوں پر اے سی بی (انسداد بدعنوانی بیورو) کی ٹیم کے ذریعہ چھاپہ ماری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز یہ چھاپہ ماری امانت اللہ خان سے اے سی بی افسران کی پوچھ تاچھ کے بعد کی گئی ہے۔ یہ کارروائی وقف بورڈ سے جڑے ایک معاملے کی جا رہی ہے، حالانکہ امانت اللہ خان کا کہنا ہے کہ یہ صرف انھیں پریشان کرنے کی کوشش ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اے سی بی کی اس چھاپہ ماری کے دوران امانت اللہ خان کے ایک ٹھکانے سے غیر ملکی پستول بریٹا برآمد کی گئی ہے جس کا لائسنس موجود نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پستول امانت اللہ کے بزنس پارٹنر حامد علی کے گھر سے برآمد ہوئی ہے۔ ساتھ ہی چھاپہ ماری میں 12 لاکھ روپے نقد بھی برآمد ہوئی ہے۔ اے سی بی کی الگ الگ ٹیمیں جامعہ نگر، اوکھلا، غفور نگر میں اب بھی موجود ہیں۔ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ میں امانت اللہ خان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ— یہ لوگ کہتے ہیں اوپر سے پریشر ہے۔ کوئی بھی شکایت ڈالتا ہے۔

سی ای او وقف بورڈ کی شکایت پر ایسا ہو رہا ہے۔ کانٹریکٹ کے لیے نہیں، مستقل اسٹاف کے لیے تقرری ہوئی تھی۔ فسادات کے وقت میرا پرسنل اکاؤنٹ، ریلیز اکاؤنٹ نہیں بن سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے 24 لوگوں کی تقرری کی گئی۔ سب کو صلاحیت کی بنیاد پر لیا گیا۔ اسی سی ای او نے ان لوگوں کو بھی رکھا، جس نے شکایت کی ہے۔ یہ 2022 کے ریکارڈ طلب کر رہے ہیں جو ہم نے دے دیا۔ ریلیف کمیٹی 2022 میں بنی، ایف آئی آر اس سے پہلے ہو گئی۔ نہ میں نے کسی کیس کو متاثر کیا، نہ کچھ غلط کیا۔ میں نے سبھی ضابطوں پر عمل کیا ہے۔ میرے خلاف 24-23 ایف آئی آر ہیں۔

دراصل امانت اللہ خان پر وقف بورڈ کے بینک اکاؤنٹس میں مالی بے ضابطگی، وقف بورڈ کی ملکیتوں میں کرایہ داری کی تعمیر، گاڑیوں کی خرید میں بدعنوانی اور دہلی وقف بورڈ میں سروس ضابطوں میں خلاف ورزی کرتے ہوئے 33 لوگوں کی غلط تقرری کے الزامات ہیں۔ اس سلسلے میں اے سی بی نے جنوری 2022 میں انسداد بدعنوانی ایکٹ اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading