ایک آواز پھر دبائی گئی
اور اِک نربھیا ستائی گئی
وہ یہ کہتا تھا چھٹپٹانا نئی
زخم کھانا، مگر بتانا نئی
جو کسی کو اگر بتاؤ گی
کچھ نئے اور زخم کھاؤ گی
تم نے اپنا کیا ہی پایا ہے
میرے رتبے کو آزمایا ہے
تم جو بولیں، تو یہ ہی ہونا تھا
موت کی نیند تم کو سونا تھا
میرا کیا ہے، مزے کروں گا میں
تم تو مر ہی گئیں، جیوں گا میں
چار دن چند لوگ بولیں گے
تھک کے آخر خاموش ہو لیں گے
چند شمعیں بھی وہ جلا دیں گے
اور پھر سب تمھیں بھلا دیں گے
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
