ہندوستان میں لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلہ کے لیے انتخابی مہم کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اتوار 19مئی کو ساتویں مرحلے کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے ،تقریباً چالیس دنوں کے صبرآزماانتظار کے بعد 23مئی کو انتخابات کے نتائج سامنے آئیں گے ،لوک سبھا کے انتخابات کے اعلان اور پھر انتخابی مہم کے دوران جو حالات پیدا ہوئے اور جس طرح کی بیان بازی اور کردارکشی کی مہم سیاسی پارٹیوںاورلیڈروں میںچلی ایسا کبھی دیکھا اور نہ سنا گیا ہے، بلکہ یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ اس درمیان سیاسی حریفائی اور مخالفت کے ساتھ ساتھ نجی معاملات کو انتہائی بے تکے انداز میں اچھالا گیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے ،اس میں قدآوررہنماءبھی ملوث ہیں،جوکہ ایک افسوس ناک امر ہے۔
ملک کی سبھی سیاسی پارٹیوں اورخصوصاً بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی )نے 2019 کے ان انتخابات کو جیتنے کے لیے پوری طاقت جھونک دی ہے اوراس مرتبہ انہوںنے مغربی بنگال کو ’ٹارگٹ ‘کیا ہے ،بلکہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کوذلیل وخوار کرنے اور الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی ہے ۔کئی جگہ تشدد کا سہار ا بھی لیا گیا،خیر چھ مراحل کی ووٹنگ میں ملک میں معمولی تشدد کے علاوہ کوئی سنگین واقعہ نہیں پیش آیا اورملک کے جمہوری اقداراور سیکولرزم کو ماننے والے باشعوررائے دہندگان نے اپنا فیصلہ ای وی ایم مشینوں میں بند کردیا ہے اور آخری مرحلے کے بعد19مئی کی شام سے نیوزچینلز طرح طرح کی پیشگوئی کرتے نظرآئیں گے اور ایکزٹ پول کے ذریعہ نتائج پر دعوے پیش کیے جائیں گے ،لیکن سچائی یہ ہے کہ فی الحال رائے دہندگان کے’من کی بات ‘سے کوئی واقف نہیں ہے چند مہینے قبل 2018کے آواخر میں ہونے والے کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور لوک سبھا انتخابات کومدنظر رکھتے ہوئے کئی ریاستوں میں ہونے والے سیاسی اتحاد اور گٹھ جوڑکو دیکھتے ہوئے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ 23 مئی کو اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا،البتہ ملک کا ذرائع ابلاغ اور خصوصی طورپر الیکٹرونک میڈیا آنکھیں بند کرکے جانبداری کا مظاہرہ کررہا ہے اور زمینی سچائی کو پیش کرنے سے قاصر ہے ،کُل ملا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سب کچھ کنفیوز ہے۔
لوک سبھاانتخابات 2014میں انتخابات سے پہلے بغیر کسی جھجھک سے لوگ بی جے پی اور مودی کی جیت کی پیش گوئی کرتے رہے اور اُس وقت یہ سوال رہا کہ جیت کا انداز کیا ہوگا،لیکن اس مرتبہ صورتحال مختلف نظرآرہی ہے ،سیاسی پارٹیاں دعوے ضرورکررہی ہیں اور کامیابی کی باتیںہورہی ہیں مگر امکان یہی ہے کہ آخری وقت تک کچھ پتہ لگانا مشکل نظرآرہا ہے۔حزب اختلاف کی نہ سنیں تو سبرامنیم سوامی جیسے بی جے پی کے رہنماءخوداس بات کا اظہار کررہے ہیں،پارٹی کی نشستیں کم ہورہی ہیں ،شاید یہی سبب ہے کہ اترپردیش میں جوحالات پیدا ہوئے ہیں اس کو بھانپ لینے کے بعد مودی اور امت شاہ نے مغربی بنگال پر پورا زورلگا دیا ہے۔حالانکہ چند پیش گوئیاں ایسی بھی سامنے آئی ہیں ،جن میں معمولی اکثریت کے ساتھ این ڈی اے کی حکومت کی تشکیل ممکن بتائی جارہی ہے ،جوکہ 2014میں این ڈی اے کو حاصل تقریباًسوا تین سونشتسوںسے کافی کم ہوگی اور یہ خطرناک رحجان پیش کیا گیا ہے کیونکہ تین چار سیٹ زیادہ ملنے کے بعد حکومت پر ہمیشہ تلوارلٹکی رہتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے رہنماءبلند وبالا دعوے کریں ،لیکن حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سال میں پارٹی نے ’کانگریس مکت بھارت‘اور دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بننے کے امت شاہ کے خواب کو تعبیر کرنے کے چکر میں بہت کچھ گنوا دیا ہے ،حال کے اسمبلی انتخابات میں مدھیہ پردیش ،راجستھان ،چھتیس گڑھ اس کے ہاتھ سے چلے گئے اور گجرات میں بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا،خیر گجرات بچ گیا ،لیکن طاقت میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ان سبھی ریاستوں میں 2014سے قبل انتخابات ہوئے تھے اور بی جے پی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔بی جے پی کے لیڈروںکا کہنا کہ علاقائی اور قومی مسائل پر رائے دہندگان الگ الگ طرز عمل اپناتے ہیں ،دل کو بہلانے کی باتیں ہیں ۔
حقیقت اس سے برعکس ہوسکتی ہے۔کیونکہ عوام نے بڑی خاموشی سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔جبکہ مودی لہر بھی دور دور تک نہیں نظرآرہی ہے ،البتہ مودی کے انداز بیان سے ان کی مقبولیت برقرارہے ،لیکن پچھلی بار مودی لہر کے نتیجے میں بی جے پی نے 31فیصد ووٹ حاصل کیے تھے،جوکہ گزشتہ تین لوک سبھا انتخابات سے زیادہ تھے،مطلب اچانک 10فیصدکا اضافہ ہوا جوکہ اس بار مودی لہر نہ ہونے سے گھٹ سکتا ہے۔امکان یہی نظرآرہا ہے کہ بی جے پی کا بڑھا ہوا ووٹ حزب اختلاف کی جھولی میں چلاجائے اور اگر ایسا ہوتا ہے کہ بی جے پی اسے نشستوں میں ڈھالنے میں ناکام ہوجائے گی۔اس کا سبب کئی ریاستوںمیں اپوزیشن اتحاد کام کرگیا ہے۔
بھارتیہ جنتاپارٹی نے پہلے دومراحل میں ترقی اور مسائل پر بات کی ،لیکن پھر اس کا انداز بدل گیا ،خود وزیراعظم نریندرمودی اپنے بیانات سے بھٹکے بھٹکے نظر آئے ،کیونکہ معیشت کی بہتری ،زراعت اور کسان کی حالت زار اور بے روزگاری بی جے پی کے لیے سردرد بنے رہے ،دیگر مسائل پر عوام نے کتنی توجہ دی اور اس بنیاد پر ووٹ دیئے ،اس کا پتہ نہیں ہے ،لیکن جہاں نوٹ بندی ،جی ایس ٹی وغیرہ سے نقصان پہنچا رہا ،وہیں پارٹی نے ملک کی حفاظت کے نام پر بھی ووٹ مانگے ہیں،ہاں اس بات میں بھی سچائی ہے ،جموں کشمیر میں پلوامہ میں ہوئے حملہ کے بعد فضائیہ کی کارروائی کا بھی خاصا اثر پڑنے کا امکان ہے ،عوام کی اکثریت اس طرح کی انتقامی کارروائی کے حق میں نظرآئی ہے لیکن فی الحال یہ کہنا جلدبازی ہوگی کہ اس کا فائدہ اٹھانے میں بی جے پی کتنی کامیاب ہوگی ،کیونکہ پلوامہ حملہ اور جوابی کارروائی پر اتنی متنازع باتیں سامنے آئی ہیں کہ بی جے پی کی لیڈرشپ بوکھلا گئی ہے۔آخری دومرحلوں کے بعد ہندوتوا کا سہارا لینے کی کوشش اور بھوپال سے مالیگاﺅں بم دھماکہ کی ملزم سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو لوک سبھا کے لیے امیدوار بنائے جانے سے ماحول میں گرمی لائی گئی ،لیکن پرگیہ نے انتہائی جوش میں پہلے ممبئی کے حملہ میں شہید ہوئے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے کے خلاف بیان دیا اور پھر گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو ’دیس بھکت‘قراردے کر بی جے پی کی مشکل بڑھا دی ہے،ویسے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ بغیر ہائی کمان کی حمایت سے سادھوی کیا اتنی ہمت کرسکتی ہے۔کیونکہ بیان بازی کے بعد معافی مانگنا تو ’فیشن ‘بن چکا ہے ۔دوسری طرف ایسی خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ بی جے پی کی سیٹ کم ہونے کے نتیجہ میں سنگھ نے ایک بی پلان بھی تیار رکھاہے ،جس میں بنا مودی دوسرے نام کو پیش کیا جائے گا اور نتین گڈکری کا نام اچھالا جارہا ہے جوکہ ناگپور سے تعلق رکھتے ہیں اور آرایس ایس سے قریب بتائے جارہے ہیں۔جیسا سے پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ حزب اختلاف کی نہ سنیں تو سبرامنیم سوامی جیسے بی جے پی کے رہنماءخوداس بات کا اظہار کررہے ہیںکہ پارٹی کی 50سے زائدنشستیں کم ہورہی ہیں ۔
خیر کانگریس کو ’نیائے ‘ سے فائدہ پہنچ سکتا ہے ،لیکن ایک طبقہ لیڈرشپ کے فقدان کی باتیں کرتا رہا ہے ،لیکن سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کو ایک بڑے نقصان کا سامنا ہے ،اور وہ اترپردیش میں حزب اختلاف کے اتحاد سے پہنچ رہا ہے ،ان تما م قیاس آرائیوں کے درمیان آخری مرحلہ بھی اتوار کو طے پاجائے گا اور لوک سبھا 2019کے کیا نتائج سامنے آئیں گے اور کیا سیاسی صورتحال بنے گی ، اس کے لیے مزید ایک ہفتے کا انتظار کرنا ہوگا۔امکان ہے کہ جیسا ہم سوچ رہے ہوں ،نتائج اس کے برعکس، حیرت انگیز اور تعجب خیزہوں ۔

جاویدجمال الدین
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD