کراچی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے میں اپنے فلیٹ پر مردہ پائی جانے والے اداکارہ حمیرا اصغر کے اہلخانہ نے ان کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
حمیرا اصغر کی لاش منگل کو اس وقت برآمد ہوئی تھی جب عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کروانے کے لیے پولیس ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی۔
پولیس کے مطابق اداکارہ کی لاش ’کئی روز پرانی تھی‘ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ان کی موت کی وجہ کیا تھی۔
ایس ایس پی جنوبی مہروز علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اداکارہ حمیرا علی لاہور کی رہائشی تھیں اور اتحاد کمرشل کے علاقے میں سنہ 2018 سے فلیٹ میں رہتی تھیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’سنہ 2024 سے انھوں نے کرایہ دینا بند کردیا تھا جس کے خلاف مکان مالک نے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔‘
ٹائلٹ پیپر کا ’بم‘: انڈین ایئرلائنز کا طیارہ جسے پاکستان نے چھڑوایا اور مسافروں نے اغوا کاروں سے آٹوگراف لیے
’جب آہنی گیٹ اور لکڑی کا دروازہ توڑ کر پولیس اندر داخل ہوئی تو حمیرا علی کی لاش زمین پر موجود تھی جو کئی روز پرانی تھی۔‘
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’لاش کی حالت خراب تھی‘ تاہم موت کی وجہ کے بارے میں بعد میں بتایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لاش سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور خاتون کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے بعد سامنے آئے گی۔‘
پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فلیٹ سے تفتیش کاروں نے فورینزک شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ’تمام ممکنہ شواہد کی تفتیش کی جا رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHabib Jamali
،تصویر کا کیپشنحمیرا اصغر خیابانِ اتحاد کی اس عمارت کی چوتھی منزل پر واقع فلیٹ میں رہائش پذیر تھیں
’لاش کم از کم ایک ماہ پرانی ہو گی‘
کراچی میں فلاحی ادارے چھیپا کے رضاکاروں نے حمیرا کی لاش اٹھائی۔ ایمبولینس ڈرائیور زبیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ فلیٹ پر پہنچے تو اس وقت تک پولیس دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو چکی تھی۔
زبیر بلوچ کہتے ہیں کہ انھوں نے دیکھا کہ ’سٹور روم جیسے ایک کمرے میں فرش پر قالین کے اوپر ایک عورت کی لاش پڑی ہوئی تھی جس نے نیلے رنگ کی پتلون اور اور پنک رنگ کی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔‘
ان کے مطابق ’یہ فلیٹ عمارت کے چوتھے فلور پر تھا جس میں دو سے تین کمرے تھے۔ ایک بیڈ روم تھا، گھر میں بجلی نہیں تھی۔‘
’معلوم ہوا کہ مکان مالک نے بجلی بند کرا دی تھی۔ دوسری طرف سے کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں۔ شاید اسی وجہ سے بدبو باہر نہیں گئی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے اندازے کے مطابق لاش کم از کم ایک ماہ پرانی ہوگی۔‘
شیفالی زریوالا کی اچانک موت: ’دنیا میں صرف ایک ہی ’کانٹا لگا‘ گرل ہو سکتی ہے اور وہ میں ہوں‘28 جون 2025
سدھارتھ شکلا کی موت: ’جب کہانی نامکمل ہو لیکن کتاب بند ہو جائے‘2 ستمبر 2021
’عرفان خان کو ہم نے وہ نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے‘1 مئ 2020
’سوشانت آج زندہ ہوتے تو شائقین دل بیچارہ کے ٹریلر کو سستی لو سٹوری قرار دیتے‘7 جولائی 2020
ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب پولیس نے حمیرا کی فیملی سے رابطہ کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ گذشتہ سات سال سے ان سے رابطے میں نہیں تھیں، وہ اکیلی رہتی تھیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حمیرا کی موت کے بعد جب ان کے اہلخانہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کے والد نے بیٹی کی لاش لینے سے بھی انکار کردیا۔
حمیرا اصغر کی گھر سے لاش برآمدگی کے معاملے پر صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا سے رابطہ کر کے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔
صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا ہے کہ ’اداکارہ حمیرا اصغر کے متعلق افسوسناک خبر سن کر دکھ ہوا۔ پولیس واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کرے اور حقائق سامنے لائی جائیں۔‘
اسد رضا کے مطابق ’حمیرا کے موبائل فون کی ’سی ڈر آر بھی نکالی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ سال اکتوبر سے ان کی کوئی بھی سرگرمی نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہHumaira Asghar Instagram
مواد پر جائیں
انھوں نے چند برس قبل نجی ٹی وی اے آر وائی کے ریئیلٹی شو تماشا گھر سے شہرت حاصل کی تھی جس کے بعد وہ متعدد ٹی وی ڈراموں اور چند فلموں میں بھی نظر آئیں۔
حمیرا اصغر کی کئی دن پرانی لاش ملنے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد افسوس کا اظہار کرتے دکھائی دیے وہیں بہت سے لوگ اس بات پر حیرانی اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ کسی کو اتنا عرصہ کچھ پتا کیوں نہیں چلا۔
کشف نے ایکس پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’اتنے دن تک؟ والدین؟ بہن بھائی؟ خاندان؟ باقی لوگ یا دوست؟ ساتھ کام کرنے والے؟ وہ تماشہ میں تھیں اور شاید وہاں انھوں نے کچھ دوست بنائے ہوں گے لیکن کسی نے بھی جا کر ان کا حال جاننے کی کوشش نہیں کی؟‘
ندرت فاطمہ نے لکھا کہ ’آج کراچی ایک اور آواز خاموش ہونے کی خبر سے جاگا۔‘ انھوں نے لکھا کہ ’کسی نے نوٹس نہیں کیا، کسی نے ان کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔‘
’یہ ایک سانحہ ہی نہیں ہے بلکہ ہماری اجتماعی تنہائی اور غفلت کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔‘
اداکارہ صحیفہ جبار خٹک کا کہنا ہے کہ (شوبز) انڈسٹری باہر سے تو بہت چکاچوند والی دکھائی دیتی ہے لیکن اس میں رہنا بہت مشکل ہے۔
اداکارہ حنا الطاف نے اپنے بیان میں کہا کہ حمیرا اکیلی رہتی تھیں اور تنہائی ہی میں چل بسیں اور دنوں تک کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف نقصان نہیں بلکہ غفلت سے جگانے کی گھنٹی ہے کہ دوستوں کا خیال رکھا جائے اور ان کا جو کبھی اس کا مطالبہ نہیں کرتے۔‘
کراچی میں ایسا دوسرا واقعہ

،تصویر کا ذریعہPTV
کراچی میں حالیہ دنوں میں ایسا دوسرا واقعہ ہے جہاں اکیلی رہنے والی ایک ادکارہ کی لاش ملی ہو۔ اس سے پہلے عائشہ حان نامی سینئیر اداکارہ کی موت پر بھی سوشل میڈیا شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔
یاد رہے کہ رواں سال جون میں معروف سینئر پاکستانی ادکارہ عائشہ خان کی ان کے گھر سے7 روز پرانی لاش ملی تھی۔ اُن کی عُمر 76 برس تھی۔
پولیس کے مطابق عائشہ خان کی طبعی موت واقع ہوئی تھی۔ اداکارہ عائشہ خان گلشن اقبال بلاک 7 نجیب پلازہ میں واقع اپنے فلیٹ میں اکیلی رہتی تھیں اور فلیٹ سے تعفن اٹھنے پر اہل محلہ نے پولیس کو بلایا تھا۔ جب لوگ ان کے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو اداکارہ گھر میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔
عائشہ خان 22 اگست 1948 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 1964 میں انھوں نے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا اور پی ٹی وی کے متعدد مقبول ڈراموں میں اپنی جاندار اداکاری سے ناظرین کے دل جیتے۔