آٹو سیکٹر میں بحرانی کیفیت اور جی ڈی پی میں گراوٹ کے تازہ اعداد و شمار کا اثر ہندوستانی شیئر بازار پر زبردست طریقے سے پڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ گنیش چترتھی کے موقع پر پیر کے روز بند رہا شیئر بازار منگل کو زبردست گراوٹ کے ساتھ کھلا۔ شروعاتی کاروبار میں اہم انڈیکس سنسیکس صبح 10.22 بجے 413 پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ 36919.21 پر کاروبار کرتے دیکھا گیا۔ نفٹی اسی وقت 129.30 پوائنٹ کی کمزوری کے ساتھ 10893.95 پر کاروبار کرتے دیکھا گیا۔
Sensex at 36,910.86; down by 421.93 points. pic.twitter.com/jsFTMdWwgF
— ANI (@ANI) September 3, 2019
بمبئی اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) کا 30 شیئروں پر مبنی انڈیکس سنسیکس صبح 151.03 پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ 37181.76 پر، جب کہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا 50 شیئروں پر مبنی انڈیکس نفٹی 62.3 پوائنٹ کے اضافہ کے ساتھ 10960.95 پر کھلا۔
غور طلب ہے کہ معیشت کی حالت بے حد خستہ ہے۔ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح تقریباً 6 سال میں سب سے کم ہو کر 5 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ ایک سال میں ہی جی ڈی پی میں 3 فیصد کی زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے۔
پیر کے روز جاری کور سیکٹر گروتھ کے اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں جو اس سال جولائی میں 2.1 فیصد پر پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ سال کور سیکٹر کی شرح ترقی 7.3 تھی لیکن اس سال اس میں تقریباً تین چوتھائی کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ کور سیکٹر میں بجلی، اسٹیل، ریفائنری پروڈکٹ، کروڈ آئل، کول، سیمنٹ، قدرتی گیس اور فرٹیلائزر سیکٹر شامل ہیں۔ پیر کے روز آئے نئے پی ایم آئی اعداد و شمار سے اس کا انکشاف ہوا ہے۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آٹھ کور سیکٹر میں سے 5 میں زبردست گراوٹ ہوئی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
