شہریت قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیاں الگ الگ کیٹگری میں تقسیم
سپریم کورٹ نے شہریت قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو کچھ الگ الگ کیٹگری یعنی زمرے میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کے تحت آسام، نارتھ ایسٹ کے مسئلے پر الگ سے سماعت ہوگی۔ علاوہ ازیں اتر پردیش میں جو شہریت قانون کا عمل شروع کیا گیا ہے، اس پر علیحدہ سماعت ہوگی۔ عدالت نے سبھی عرضیوں کو لسٹ زون کے حساب سے تقسیم کر کے مانگا ہے اور ان پر مرکز کی مودی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے مودی حکومت کے خلاف جاری کیا نوٹس، جواب کے لیے 4 ہفتے کا وقت
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف داخل عرضیوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکز کی مودی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے مودی حکومت سے کہا ہے کہ وہ چار ہفتے میں اپنا جواب داخل کرے۔
Supreme Court asks Centre to file reply in four weeks. https://t.co/Twc0f7kMA2
— ANI (@ANI) January 22, 2020
ابھی کوئی حکم جاری کرنا ممکن نہیں، کئی عرضیوں پر سماعت باقی: سپریم کورٹ
شہریت قانون کے خلاف داخل عرضیوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے کہا کہ ”ہم ابھی کوئی بھی حکم جاری نہیں کر سکتے کیونکہ ابھی کئی عرضیوں کو سننا باقی ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ سبھی عرضیوں کو سننا لازمی ہے اس لیے فی الحال کوئی حکم صادر نہیں کیا جا سکتا۔ اس درمیان اٹارنی جنرل نے اپیل کی ہے کہ عدالت کو یہ حکم جاری کرنا چاہیے کہ اب کوئی نئی عرضی داخل نہیں ہونی چاہیے۔
SC hearing petitions on #CitizenshipAmendmentAct: CJI says, we may ask govt to issue some temporary permits for the time being. AG asks court to freeze filing further petitions, as over 140 petitions have been filed&others who wish to be heard, may file intervention application.
— ANI (@ANI) January 22, 2020
سپریم کورٹ میں سماعت شروع، کپل سبل نے کیس آئینی بنچ کو بھیجنے کا کیا مطالبہ
شہریت قانون کے خلاف اور اس کے حق میں کم و بیش 150 عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں جن میں سے کچھ عرضیوں کی کاپیاں ہی اس وقت عدالت پہنچی ہیں۔ اس درمیان شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اپنی بات رکھتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کو آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا جانا چاہیے۔
Supreme Court hearing on petitions related to #CitizenshipAmendmentAct: Kapil Sibal says, Court to decide whether this case should be referred to the Constitution Bench pic.twitter.com/wQUn6Wc1Z7
— ANI (@ANI) January 22, 2020
140 سے زائد عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت تھوڑی ہی دیر میں
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اور اس کے حق میں کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں۔ انڈین یونین مسلم لیگ اور کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے بھی شہریت ترمیمی قانون کو اپنی عرضی میں چیلنج کیا ہے۔ ان عرضیوں پر چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے، جسٹس ایس عبدالنظیر اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ کچھ ہی دیر میں سماعت کرے گی۔
The petitioners who've challenged CAA are Indian Union Muslim League, Congress leader Jairam Ramesh,
RJD leader Manoj Jha, Trinamool Congress MP Mahua Moitra, AIMIM leader Asaduddin Owaisi, Jamiat Ulama-i-Hind, All Assam Students Union (AASU), Peace Party, SFI, & CPI among others https://t.co/s6PFJYanL8— ANI (@ANI) January 22, 2020
سی اے اے کے خلاف کیرالہ کانگریس آج سپریم کورٹ میں داخل کرے گی عرضی
کانگریس لیڈر اور کیرالہ میں اپوزیشن لیڈر رمیش چینیتھال نے شہریت قانون سے متعلق ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ”آج ہم شہریت ترمیمی قانون ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ یہ قانون ملک کے آئین کے خلاف ہے۔ ہم آئین میں پھیر بدل نہیں چاہتے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔“
Congress and Kerala Opposition leader, Ramesh Chennithala: Today we are approaching the Supreme Court against the Citizenship Amendment Act. This Act is against the Constitution and law prevailing in this country. We want to uphold the law and Constitution. We want justice. pic.twitter.com/TTuIldIRa2
— ANI (@ANI) January 22, 2020
تقریباً 144 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت آج
پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دھرنا و مظاہرہ جاری ہے اور آج اس تعلق سے انتہائی اہم دن ہے۔ آج سپریم کورٹ میں شہریت قانون کے خلاف داخل کم و بیش 144 عرضیوں پر سماعت ہونی ہے اور سبھی کی نظریں آج کی عدالتی کارروائی پر مرکوز ہے۔ گزشتہ رات اس سماعت کے پیش نظر بڑی تعداد میں خواتین نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا بھی دیا لیکن بعد میں ان خواتین کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
Delhi: A group of women staged a sit-in protest outside Supreme Court last night. The Court to hear today around 144 petitions related to Citizenship Amendment Act, including petitions challenging constitutional validity of CAA & transfer petitions filed by the Central Government pic.twitter.com/xZ3nuO2Bdp
— ANI (@ANI) January 22, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو