ملک بھارت، دنیا بھر میں جب بھی یہ نام کہیں لیا جاتا ہے اس نام کے ساتھ ایک لفظ بلا کسی تائید کے جڑ جاتا ہے اور وہ ہے سیکولر جی ہاں سیکولر ملک بھارت.. کیونکہ پچھلے ستر سالوں سے دنیا میں ملک کی اس شناخت کو بنانے کے لئے ملک کے ہر باشندے نے بلاتفریق مذہب ہر ممکن کوشش کی ایک متحدہ قومیت کی پہچان اس ملک کو دی مگر پچھلی ایک دہائی سے ملک میں فرقہ پرست حکومت کے قیام کے بعد سے ملک کی اس شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی. دلت، ونچت اور نچلی ذاتوں کے باشندوں کے ساتھ بالخصوص ملک کی دوسری سب سے بڑی قوم یعنی ہم مسلمانوں کو حراساں ہی نہیں بلکہ کٹہرے میں کھڑے کرنے کی کوشش کی گئی کبھی ماب لنچنگ، کبھی تبدیلی مذہب، کبھی مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی گئی کھلے طور پُر مسلم دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا

اور اس پر سکہ مرتب کیا موجودہ منظور شدہ شہریت ترمیمی بل نے، جو خود اپنے آپ میں ایک غیر آئینی و ناانصافی سے پُر مسلم دشمنی کا آئینہ ہے. اس بل کے ذریعے ملک کی شہریت کو ہی مذہب کی بنیاد طے کرنے کا پابند بنا دےگا، جو اس ملک کی تاریخ اس کے دستور، سیکولر کردار اور تاریخط اقدار کو تباہ وہ برباد کر دے گا.اس بل کی رو سے ملک میں آنے والے غیر ملکی مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب کے لوگوں کو شہریت دی جائے گی جوکہ اس ملک کے دستور کے ہی منافی ہے. جہاں ہمارا دستور ملک میں مذہب، ذات پات، رنگ نسل، زبان اور علاقائیت کی بنیاد پر تفریق کرنے کی اجازت نہیں دیتا وہاں اس طرح کے بل سے ملک کا دستور مجروح ہوتا ہے. جب اس بل کے ذریعے اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت مسلمان کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو ملک کے سیکولر کردار اور اس کی شناخت کو ٹھیس پہنچتی ہے، ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے ذریعے اس ملک کے جمہوری اقدار کی پامالی ہوتی ہے. آج ہم اس بل کی مخالفت میں احتجاج صرف اس لئے نہیں کر رہے ہیں کہ اس بل میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ بل کے ذریعے ملک کی شناخت پر. ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے.

اس بل کے ذریعے جہاں ملک کی آبادی میں اضافہ ہوگا وہیں ملک میں دوسرے مسائل بھی کھڑے ہونگے. آج ملک ایک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، بے روزگاری اپنی اونچائی پر ہے، صحت، تعلیم، قوانین کی پاسداری کا فقدان ہے، ملک کی اندرونی حفاظت ہمیشہ مشکوک رہی ہے،ایسے میں ملک میں غیر ملکی باشندوں کو پناہ دینے سے ان مسائل میں مزید اضافہ ہوگا ملک میں رہنے والی ہر قوم کے ساتھ نا انصافی ہوگی کیونکہ پہلے ہی ملک میں موجودہ سہولیات موجودہ آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہیں، دیگر دشمن ممالک کے ایجنٹ ملک میں مذہب کاسہارالے کرملک میں داخل ہو سکتے ہیں جس سے کس حدتک نقصان ہوگا اسکا اندازہ کرنا ناممکن ہےوہیں ملک کی شمال مشرقی ریاستوں کے بنیادی حقوق اور ان کے بنیادی قوانین کو بھی متاثر کرے گا جیسے آسام میں پچھلے کئی دہائیوں سے جاری این آر سی، آسام معاہدہ ایکٹ 1985 اور ایسے بہت سارے قوانین کو بے معنی بنا کر رکھ دے جن کے نفاذ اور قیام کے لئے ملک میں لاکھوں کروڑوں روپیوں کے ساتھ ہزاروں لاکھوں جانوں کا نقصان ہوا ہے.ان جیسے سیکڑوں معاملات ہیں جو اس بل کے تحت ملک کے سیکولر کردار، دستور ہند اور جمہوری اقدار کو صرف مجروح ہی نہیں بلکہ قتل ہی کردیتا ہے.یہ بل ملک میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں بلاتفریق مذہب ملک سے محبت کرنے والوں کی محبت کو ٹھیس پہنچائے گا. ان خیالات کا اظہار آج شہر دھولیہ میں جمعیتہ علماء ہند کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کی مخالفت میں ملک گیر احتجاج کے وقت صدرِ جمعیتہ علماء دھولیہ مفتی سید محمد قاسم جیلانی صاحب نے کیا. اس احتجاج میں موجود عوام کے جم غفیر نے اس بل سے ہونے والے ملک و ملت ان تمام نقصانات کی تائید و حمایت کی اور متحدہ طور اس بل کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا. جس کے بعد ایک سرکردہ وفد کے ساتھ ضلع کلکٹر کو ایک میمورنڈم دیا گیااور صدر جمہوریہ ہند کو اس بل کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس بل کو نامنظور کرنے کی گذارش کی گئی.
اس احتجاجی مظاہرے کو شہر دھولیہ کی عوام نے پوری طاقت کے ساتھ کامیاب بنایا وہیں تمام ملی سیاسی سماجی و تعلیمی جماعتیں اور اس کے نمائندوں نے بھی اپنی تائید و حمایت سے کامیاب بنایا.
صدرِ جمعیتہ علماء دھولیہ مفتی سید محمد قاسم جیلانی صاحب کی قیادت میں کیموائین کلب دھولیہ کے روڈ پر احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا.