مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن اور جامعہ نعمیہ لاہور کے سربراہ راغب نعیمی نے رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ایک بیان میں راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ 1967 میں جمعہ کو عید آنے کی وجہ سے رویت ہلال سے جمعرات کو عید کروائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کے 5 بڑے علما نے فیصلے سے انکار کیا جس پر انہیں 5 ماہ مچھ جیل میں رکھا گیا تھا۔راغب نعیمی نے کہا کہ شرعی طور پر جمعہ کو چھوڑ کر ایک روزہ کی قضا کرلی جانی چاہیے۔
رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ درست تھا، روزے کے قضا كى ضرورت نہیں، طاہر اشرفی
وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ آج شام نظر آنے والا چاند واضح ہے کہ رويت ہلال كميٹی كا فيصلہ درست تها۔
اپنے بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ روزے كى قضا كى نہ ضرورت ہے اور نہ ہى فيصلہ غلط تها، دارالافتاء پاكستان میں شہادتوں كى تصديق كى وجہ سے اعلان ميں تاخير ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ درست تھا، روزے کے قضا كى ضرورت نہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ پورى قوم حتىٰ كہ فيصلے كو غلط كہنے والوں نے بهى عيد منائی، فيصلے كے مخالفين نے شرعاً فيصلہ تسليم كيا سياسى طور پر نہیں کیا۔