شب قدرکی فضیلت قرآن وحدیث کی روشنی میں.

*پیر عادل مجید ندوی*
*تخصص فی الحدیث*
*دارالعلوم ندوة العلماء لكهنو*

*شب قدرکی فضیلت قرآن وحدیث کی روشنی میں*

رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل ہے۔ اسی رات کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں۔ یعنی جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزری اس نے تراسی برس چار ماہ کا زمانہ عبادت میں گزار دیا اور تراسی برس کا زمانہ کم از کم ہے کیونکہ
خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ کہہ کے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ جتنا زیادہ اجر عطا فرمانا چاہے گا اپنی شان کے مطابق عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔
*یہ رات عطا ہونے کی وجہ؟*
اس رات کے عطا ہونے کا سب سے اہم سبب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اُمت پر شفقت اور آپ کی غم خواری ہے۔ جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ فرمایا گیا تو آپ کو ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے آپ کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کرسکیں گے، تو جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سورة القدر سنائی جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔
اس کی تائید حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ کیا گیا جس نے ایک ہزار ماہ تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب فرمایا اور اپنی امت کے لئے آرزو کرتے ہوئے جب یہ سوچا کہ میری امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم ہوں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے شب قدر عنایت فرمائی۔(تفسیر الخازن 4 :397)
ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے سامنے متعدد پیغمبروں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حضرات نے اَسی اَسی سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی۔ صحابہ کرام کو ان مقدس ہستیوں پر رشک آیا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت کے لوگ ان سابقہ لوگوں کی اَسی اَسی سالہ عبادت پر رشک کر رہے ہیں تو آپ کے رب نے آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دیا ہے اور پھر ( سورة القدر )کی قرأة کی اس پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک مسرت سے چمک اٹھا۔(القرطبی، 20 : 130)
لیلۃ القدر صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیلة القدر اللہ تعالیٰ نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا (درمنثور، 6 :371)
قرآن واحادیث میں شب قدر کی فضیلت کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
بےشک ہم نے اس (قرآن مجید) کوشبِ قدر میں نازل کیا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے (سال بھر کی) ہر بات کا حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ (رات) سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک۔
اسی طرح حدیث پاک میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں (صحیح بخاری1901)
اس میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر عبادت و طاعت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو، ریاکاری اور بدنیتی نہ ہو پھر یہ کہ آئندہ عہد کرے کہ برائی کا ارتکاب نہیں کروں گا۔ چنانچہ اس شان کے ساتھ عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مغفرت کا ذریعہ بن کر آتی ہے۔
اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ماہ جو تم پر آیا ہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتًا محروم ہو۔ (ابن ماجہ 1644)
ایسے شخص کی محرومی میں واقعتًا کیا شک ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے جب انسان معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزار لیتا ہے تو اَسی سال کی عبادت سے افضل عبادت کے لئے چند راتیں کیوں نہ جاگ سکے؟
انہی سے ایک اور روایت ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا شب قدر میں جبرائیل امین فرشتوں کے ساتھ زمین پر اتر آتے ہیں اور اس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں بھی) ﷲ کو یاد کر رہا ہو۔ (مشکواۃ 1981)
اِسی بات کو سورہ القدر میں يوں بیان کیا گیا ہے اس (رات) میں فرشتے اور جبرائیل علیہ السلام اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں (القدر، 97 : 4)
*شب قدر کو مخفی کیوں رکھا گیا؟*
اتنی اہم اور بابرکت رات کے مخفی ہونے کی متعدد حکمتیں ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔
اگر اسے مخفی نہ رکھا جاتا تو عمل کی راہ مسدود ہو جاتی اور اسی رات کے عمل پر اکتفا کر لیا جاتا،
اور یہ کہ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی انسان کی یہ رات رہ جاتی تو شاید اس صدمے کا ازالہ ممکن نہ ہوتا۔
اسی طرح یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ ﷲ تعالیٰ کو بندوں کا رات کے اوقات میں جاگنا اور بیدار رہنا محبوب ہے اس لئے رات کی تعیین نہ فرمائی تاکہ اس کی تلاش میں متعدد راتیں عبادت میں گزاریں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے *جو لوگ رات کے ایک حصہ میں بیدار رہیں یہ آپ کے لئے اضافہ ہے عنقریب آپ کا پروردگار اسی طرح آپ کو مقام محمود تک پہنچادے گا* • (سورہ الاسراء 79)
*ایک جھگڑا جو شب قدر کے اخفاء کا سبب بنا*
اس رات کو مخفی کر دینے کا سبب ایک جھگڑا بھی ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر کی تعیین کے بارے میں آگاہ فرمانے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے لیکن راستے میں دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے بارے میں اطلاع دینے آیا تھا مگر فلاں فلاں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو اس کی تعیین اٹھا لی گئی ہے امید ہے یہ تمہارے لیے باعث خیر ہو اس رات کو 25ویں ،27ویں، اور 29ویں میں تلاش کرو (بخاری 2023)
اس روایت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے انسانﷲ تعالیٰ کی بہت سے نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت برکتوں اور سعادتوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
اسی طرح حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر مجھے شب قدر معلوم ہو جائے تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کی تلقین فرمائی *اللهم انک عفو كريم تحب العفو فاعف عنی* اے ﷲ! تو معاف کر دینے والا ہے اور معاف كرنے کو پسند کرتا ہے۔ مجھے بھی معاف کردے۔( سنن ترمذی 3855)
اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے ہمیں شب قدر کی صحیح قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور اس کو ہمارے لئے باعث خیر بنائے۔ آمین یارب العالمین