ناندیڑ: 30جنوری (راست)شہریت ترمیمی قانون ،این آرسی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا جارہاہے ۔اس سلسلہ میں ناندیڑ میں کل جماعتی تحریک نے ایک منظم احتجاجی تحریک شروع کی ہے ۔جس کے تحت دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر ناندیڑ میں بھی بے مدت دھرنا شروع کیا گیا ہے ۔اب تک یہ دھرنا دفتر ضلع کلکٹر کے سامنے کیا جارہا تھا ۔مسلسل 13 دنوں تک یہ دھرنا وہاں ہوتا رہا ۔

اسکے بعد انتظامیہ کی ہدایت پر اور انتظامی امور میں سہولت کو دیکھتے ہوئے کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران نے دھرنے کو دیگلورناکہ علاقہ کے برکت کامپلکس کے سامنے والی سڑک کے کنارے فٹ پاتھ یہ دھرنا شروع کیا ہے ۔نئے مقام پر نہایت منظم اور تمام سہولیات سے آراستہ دھرنے کا پنڈال بنایا گیا ہے ۔
آج بعد نماز ظہر دھرنے کی پہلی نشست کا باضابطہ آغاز ہوا ۔اب یہاں یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گاجب تک مودی حکومت شہریت ترمیمی قانون کو واپس نہیں لے لیتی ۔دھرنے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔دھرنے کے دوران حکومت مخالف نعرے لگائے ساتھ ہی کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران نے تقریریں بھی کی جس میں شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئی اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ یہ قانون کس طرح سے نا انصافی پر مبنی ہے اور اس کے ذریعہ مودی حکومت کس طرح امسلمانوں کو ملک سے بے دخل کرنے کی ایک گناونی سازش رچی ہے ۔شاہین باغ سے اٹھی احتجاجی تحریک اب ملک کے کونے کونے میںپہنچ گئی ہے ۔کل جماعتی تحریک کے احتجاجی دھرنے میں مسلم رہنماو¿ں کے علاوہ کئی غیر مسلم سماجی کارکنان نے شرکت کی۔