شاہین باغ میں مذہبی ہم آہنگی کا نظارہ: بائبل، گیتا اور قرآن کی تلاوت، گربانی کا بھی اہتمام

نئی دہلی: سی اے اے اور این آر سی کے خلاف شاہین باغ اور جامعہ میں چل رہے مظاہروں میں ہر روز ایک نیا رنگ نظر آ رہا ہے جمعہ کے روز یہاں کے مظاہرین نے نفلی روزہ رکھا اور افطار میں تمام مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی۔ وہیں، اتوار کے روز شاہین باغ میں مظاہرے کے مقام پر مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں نے ایک ہی مقام پر اپنے اپنے عقائد کے مطابق عبادت کی اور مذہبی ہم آہنگی کی منفرد مثال پیش کی

شاہین باغ میں جہاں گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے احتجاج چل رہا ہے، اتوار کے روز ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ (کل مذاہب ہم آہنگی) کے نام سے ایک تقریبا کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک جگہ پر جمع ہوئے اور مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ دریں اثنا، ہندوؤں نے روایتی انداز میں ہون کیا، اور سکھوں نے کیرتن کیا۔ علاوہ ازیں گیتا، بائبل اور قرآن کی تلاوت کی گئی۔ اس کے بعد سبھی نے آئین کے ابتدائیہ کو پڑھا اور اس کی سوشلسٹ اور سیکولر اقدار کو برقرار رکھنے کا حلف لیا۔

واضح رہے کہ ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ کا تصور مہاتما گاندھی نے انگریزی کے خلاف چل رہی جنگل آزادی کے دوران پیش کیا تھا، تاکہ تمام مذاہب میں روادری پیدا کی جا سکے۔

سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین، بشمول خواتین اور بچے شاہین باغ میں سریتا وہار-کالندی کنج روڈ پر اتوار کے روز بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور سی اے اے کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پیر کے روز شاہین باغ کے دھرنے کو ایک مہینہ مکمل ہونے جا رہا ہپے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading