اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
انسان ازلی سہل پسند ہے۔ سہل پسندی اور آرام اس کے فطرت میں رچ بس چکی ہے۔ معلوم تاریخ کا ہر صفحہ اس بات کی گواہی دیتا ہوا نظر آئے گا کہ انسان کی اس سہل پسندی کا، کامیابی سے استحصال کر کے،اس کے ہی جیسے انسانوں نے ہر دور میں اُسے کس طرح فکری اور جسمانی محکوم بنا کر اُس پر حکومت کی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ عام انسانوں کی اسی سہل پسندی اور آرام طلبی کا نتیجہ ہے جو آج مٹھی بھر افراد اپنی سرمایہ دارنہ سوچ اور عیاری سے پوری دنیا کے وسائل پر قابض ہوکر اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اس خوبصورت زمین کو جہنم بنانے میں مصروف ہیں۔
آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کے ریگستان میں جو انقلاب آیا تھا، جس کے برکات سے ساری دنیا آج بھی فیض یاب ہورہی ہے، در حقیقت انسانوں کو سہل پسندی اور آرام طلبی سے نکال کر جسمانی اور فکری لحاظ سے متحرک کر نے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ روایات کے گنبدوں میں بند صرف آج کے لئے جینے والی قوم، جن کے سوچ اور فکر پر ان کے ہی جیسے چند لوگ مذہب و عقیدت کے نام پر قابض تھے، جب کلام الٰہی سے روشنی پا کر، ہادی بر حق پیغمبر عالمﷺ کے کارواں میں شامل ہوئے توجسمانی اور فکری طور پر اتنے متحرک ہوئے کہ زمانہ آج بھی ان کی مثال دیتا ہے۔
موجودہ دور میں امت پر جو مصائب اور آفات مسلط ہورہے ہیں اُس کے بظاہر اسباب کچھ بھی ہوں، اصل سبب ہماری حد سے بڑھی ہوئی سہل پسندی اور آرام طلبی ہی ہے۔ خاص کر فکری آرام طلبی نے ہمیں اتنا کمزور کر دیا ہے کہ ہم باطل سے ہر محاذ پر مرعوب ہو رہے ہیں اور شکست کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ہماری اس زوال کا ذمہ دار سچ پوچھیں تو ہمارے نام نہاد مذہبی قائدین کا وہ طبقہ ہے جنہوں نے اپنی مسندوں کے تحفظ کے لئے اپنے عبا و دستار، منبر و محراب کو کعبہ و قبلہ سمجھ وانے کی ضد میں،ہماری سہل پسندی اور آرام طلبی کا استحصال کر کے، ہمیں اندھی تقلید کا اسیر بنا کر فکری بانجھ پن میں مبتلا کردیاہے۔ قرآن جو ہمیں متحرک رکھنے کا خدائی عطیہ ہے، اُس پر تقدس کے پہرے بٹھا کر، اُسے صرف اپنے لئے مخصوص کر کے، اُس پر غور و خوص کر نے سے محروم کر دیاہے۔ اتنا ہی نہیں روایات اور اکابر پرستی کو ہی اصل دین بتا کر ہمیں گمراہ کردیا ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اگر کہیں سے اس آرام طلبی اور سہل پسندی کے خلاف آواز اٹھتی ہے اور امت کو پھر سے متحرک کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو فورا یہ گروہ اس آواز کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ اُسے گمراہ اور بے دین قرار دے کر سماج میں اسے اچھوت بنانے کی مسلسل کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ اور یوں ہم اپنی سہل پسندی اور آرام طلبی کی وجہ سے حق و باطل میں تمیز نہیں کر پاتے، چونکہ تحقیق اور جستجو ایک مشکل کام ہے اس وجہ سے پروپگنڈے کا شکار ہوکر ہر نئی آواز کو شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
اللہ رب العزت کا قرآن مجید میں صاف ارشاد موجود ہے کہ بروز قیامت ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا۔ وہاں ہم افعال کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈال سکتے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں مولانا، مفتی، پیر صاحب کے کہنے پر میں نے یہ حرکت کی ہے اس لئے مجھے اس سے بری رکھا جائیں۔ آپ کا ہر عمل صرف آپ کا شمار ہوگا اس لئے بغیر تحقیق اور جستجو کہ کسی بھی معاملے میں صرف نام نہاد مذہبی قائدین کے کہنے پر کوئی رائے قائم کرنا بے وقوفی اور تباہی کا باعث ہوگا۔ سہل پسندی اور آرام طلبی یعنی اندھی تقلید، روایات اور اکابر پرستی کے جال سے نکل کر جب تک ہم تحقیق اور جستجو کے ذریعے کلام الٰہی کی روشنی میں موجودہ دور کے باطل طاقتوں سے بر سر پیکار ہونے کے لئے فکر و فہم کی نئی جہتیں نہیں تراشیں گے ہم مصائب و آفات، ذلت و پھٹکار، ظلم و زیادتی سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔