حیدرآباد: اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے نیٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں پر مرکز کی این ڈی اے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں امتحان دوبارہ منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔مجلس اتحاد المسلمین کے صدر دفتر (ہیڈ کوارٹر) دارالسلام میں منگل کے روز ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے دعویٰ کیا ”نیٹ امتحان ایک لطیفہ (جوک) بن گیا ہے۔
بورڈ امتحانات سے قبل طلبہ سے تبادلہ خیال کرنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حیدرآباد کے ایم پی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نے طلبہ کے مستقبل کو تباہ کردیا ہے اور اولیائے طلبہ کے خوابوں کو چکناچور کردیا ہے۔میڈیکل انٹرنس اگزامنیشن نیشنل ایلجیبلیٹی۔ کم انٹرنس ٹسٹ(انڈر گریجویٹ) یا نیٹ یو جی کا اہتمام نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے) نے 5 مئی کو ملک بھر میں 4750 مراکز پر کیا گیا تھا جس میں پورے ملک بھر سے 24لاکھ طلبہ نے شرکت کی تھی اور نیٹ کے نتائج کا4 جون کو اعلان کیا گیا۔بہار جیسے مختلف ریاستوں میں پیپر لیک اور دیگر بے قاعدگیوں کے الزامات لگ چکے ہیں۔
ان الزامات پر مختلف ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی والوں کو کچھ تو شرم آنی چاہئے۔کیونکہ نیٹ میں 24لاکھ طلبہ شریک تھے مگر مرکز کی بی جے پی حکومت نے صرف1500 طلبہ کیلئے مکرر ا متحان منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پورا امتحان دوبارہ منعقد کرنا چاہئے۔ این ٹی اے بکواس ہے۔
اس ادارہ (این ٹی اے) کا سربراہ آر ایس ایس کے فرد ہیں جن کا تعلق مدھیہ پردیش سے بتایا گیا ہے۔کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کا مرکز کی مودی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں نیٹ امتحان دوبارہ منعقد کرے۔ این ٹی اے دوبارہ منعقد نہیں کرسکتی کیونکہ یہ ادارہ تباہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے متعلقہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے انٹرنس اگزام کے نظام کی حمایت کی۔