حجاب پر امتناع، مسلمانوں کے خلاف نہیں، ہائی کورٹ میں ممبئی کے کالج کی دلیل

ممبئی: شہر کے ایک کالج نے چہارشنبہ کے دن بمبئی ہائی کورٹ میں دلیل دی کہ کالج میں حجاب‘ نقاب اور برقعہ پرامتناع صرف یکساں ڈریس کوڈ لاگو کرنے کے لئے ہے۔یہ مسلم فرقہ کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں ہے۔ 9 طالبات گزشتہ ہفتہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی تھیں۔ انہوں نے چیمبور ٹرامبے ایجوکیشن سوسائٹی کے این جی آچاریہ اور ڈی کے مراٹھے کالج میں ڈریس کوڈ لاگو کرنے اور حجاب‘ نقاب‘ برقعہ اور ٹوپی پر امتناع عائد کرنے کو چیلنج کیا تھا۔یہ لڑکیاں ڈگری(سائنس) سال دوم اور سال سوم میں زیرتعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈریس کوڈ رول سے مذہب پر عمل پیرا ہونے‘ پرائیویسی اور پسند کے حق کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کالج کا اقدام من مانی اور نامعقول ہے۔جسٹس اے ایس چندورکر اور جسٹس راجیش پاٹل پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواست گزاروں کے وکیل سے پوچھا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ حجاب‘ اسلام کا لازمی حصہ ہے۔

عدالت نے کالج انتظامیہ سے بھی پوچھا کہ آیا اس کے پاس ایسا امتناع عائد کرنے کا اختیا رہے۔فریقین کی بحث سننے کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ 26 جون کو آرڈر پاس کیا جائے گا۔ طالبات کے وکیل الطاف خان نے قرآن کی بعض آیات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ہر ایک کو اس کے مذہب پر چلنے کی آزادی ہے۔ اس کے علاوہ پسند اور پرائیوسی کا بھی حق حاصل ہے۔سینئر وکیل انیل انتورکر نے کالج کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ڈریس کوڈ ہر مذہب اور ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لئے ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ ڈریس کوڈ کی پابندی سبھی مذاہب کے لئے ہے تاکہ طالبات کھلے عام اپنا مذہب ظاہرنہ کریں۔حجاب‘ نقاب یا برقعہ اسلام کا لازمی جز یا رواج نہیں ہے۔ کل کے دن اگر کوئی طالب ِ علم یا طالبہ بھگوا لباس میں آئے تو کالج اسے بھی روک دے گا۔ مذہب یا ذات پات کا کھلے عام اظہار کیوں ضروری ہے؟ کیا کوئی برہمن اپنا جینو (پوتر دھاگہ) دکھاتے پھرتا ہے؟ کالج مینجمنٹ نے ایک کمرہ مختص کردیاہے جہاں طالبات کلاس روم میں جانے سے قبل اپنا حجاب تبدیل کرسکتی ہیں۔اس پر وکیل الطاف خان نے کہا کہ اب تک لڑکیاں حجاب‘ نقاب اور برقعہ کے ساتھ ہی جماعتوں میں آتی رہی ہیں۔ پہلے یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ امتناع عائد کردیا گیا۔ ڈریس کوڈ میں صرف مہذب لباس کی بات کہی گئی ہے۔کیا کالج مینجمنٹ کا یہ کہنا ہے کہ حجاب‘ نقاب اور برقعہ مہذب لباس نہیں اور اس سے عریانیت جھلکتی ہے؟۔ عدالت کا رخ کرنے سے قبل لڑکیاں چانسلر‘ وائس چانسلرممبئی یونیورسٹی اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(یو جی سی) سے بھی رجوع ہوئی تھیں۔یہ مسلم فرقہ کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں ہے۔ 9 طالبات گزشتہ ہفتہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی تھیں۔ انہوں نے چیمبور ٹرامبے ایجوکیشن سوسائٹی کے این جی آچاریہ اور ڈی کے مراٹھے کالج میں ڈریس کوڈ لاگو کرنے اور حجاب‘ نقاب‘ برقعہ اور ٹوپی پر امتناع عائد کرنے کو چیلنج کیا تھا۔وہ لڑکیاں ڈگری(سائنس) سال دوم اور سال سوم میں زیرتعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈریس کوڈ رول سے مذہب پر عمل پیرا ہونے‘ پرائیویسی اور پسند کے حق کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کالج کا اقدام من مانی اور نامعقول ہے۔جسٹس اے ایس چندورکر اور جسٹس راجیش پاٹل پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواست گزاروں کے وکیل سے پوچھا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ حجاب‘ اسلام کا لازمی حصہ ہے۔

عدالت نے کالج انتظامیہ سے بھی پوچھا کہ آیا اس کے پاس ایسا امتناع عائد کرنے کا اختیا رہے۔فریقین کی بحث سننے کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ 26 جون کو آرڈر پاس کیا جائے گا۔ طالبات کے وکیل الطاف خان نے قرآن کی بعض آیات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ہر ایک کو اس کے مذہب پر چلنے کی آزادی ہے۔ اس کے علاوہ پسند اور پرائیوسی کا بھی حق حاصل ہے۔سینئر وکیل انیل انتورکر نے کالج کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ڈریس کوڈ ہر مذہب اور ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لئے ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔

ڈریس کوڈ کی پابندی سبھی مذاہب کے لئے ہے تاکہ طالبات کھلے عام اپنا مذہب ظاہرنہ کریں۔حجاب‘ نقاب یا برقعہ اسلام کا لازمی جز یا رواج نہیں ہے۔ کل کے دن اگر کوئی طالب ِ علم یا طالبہ بھگوا لباس میں آئے تو کالج اسے بھی روک دے گا۔ مذہب یا ذات پات کا کھلے عام اظہار کیوں ضروری ہے؟ کیا کوئی برہمن اپنا جینو (پوتر دھاگہ) دکھاتے پھرتا ہے؟ کالج مینجمنٹ نے ایک کمرہ مختص کردیاہے جہاں طالبات کلاس روم میں جانے سے قبل اپنا حجاب تبدیل کرسکتی ہیں۔اس پر وکیل الطاف خان نے کہا کہ اب تک لڑکیاں حجاب‘ نقاب اور برقعہ کے ساتھ ہی جماعتوں میں آتی رہی ہیں۔

پہلے یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ امتناع عائد کردیا گیا۔ ڈریس کوڈ میں صرف مہذب لباس کی بات کہی گئی ہے۔کیا کالج مینجمنٹ کا یہ کہنا ہے کہ حجاب‘ نقاب اور برقعہ مہذب لباس نہیں اور اس سے عریانیت جھلکتی ہے؟۔ عدالت کا رخ کرنے سے قبل لڑکیاں چانسلر‘ وائس چانسلرممبئی یونیورسٹی اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(یو جی سی) سے بھی رجوع ہوئی تھیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading