ناندیڑ:21اگست: (ورقِ تازہ نیوز) سویتا گائیکواڑ پر ہوئے فرضی جان لیوا حملے کے معاملے میں ایک آخری ملزم کو آج پولیس نے منتقلی وارنٹ پر حراست میں لیا ہے اور اس سے فرسٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کے اجلاس میں پیش کرتے ہوئے پولیس کسٹڈی میں روانہ کر دیاگیا۔ تفصیل کے مطابق9 جنوری 2023 کو شب سوا گیارہ بجے بافناپل پر سویتا گائےکواڑ نامی ایک سماجی کارکن پرجان لیوا حملہ ہونے کی اطلاع ملی تھی اور اس نے کہا تھا کہ اس پر فائرنگ کی گئی ہے اتوارہ پولس اسٹےشن میں سویتا گائکواڈ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا
لیکن پولیس نے معاملے کی باریک بینی سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ سویتا گائکواڈ نے ایک جھوٹا ڈرامہ رچا کر کسی دوسرے شخص کو پھنسانے کی کوشش کی ہے ۔پولیس نے اس معاملے میں کرن سریش مورے اور گوپی ناتھ بالاجی مونگل‘ وکاس چندرکانت کامڑے کو گرفتار کیا ہے جبکہ یہ مقدمہ فرضی ہونے کے معاملے میں بھی سویتا گائےکواڑ کی گرفتاری عمل میں آ تھی ۔اسی معاملے میں ملوث ایک دیگر ملزم اودوھت عرف لہوجی گنگا دھرساکن بلی رام پور ناندیڑ ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا اور فلحال وہ عدالتی تحویل میں تھا
لیکن پولیس نے منتقلی وارنٹ کی بنا پر ملزم کو گائیکواڑمعاملے میں گرفتار کیا ہے۔ اتوارپ کے پی ایس ائی شیخ اسد نے ملزم کو گرفتار کیا اور آج عدالت میں پیش کیا اس کی تحویل سے ایک پستول بھی ضبط کی گئی ہے پولیس نے عدالت میں کہا کہ ملزم سے تفتیش کرنا ہے اس لیے اس کی پولیس کسٹڈی دی جائے جس کے مطابق جج نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے ملزم او دودھت عرف لہو جی کو ایک دن کے لیے پولیس کسٹڈی میں روانہ کر دیا ہے