سوشل میڈیا پر بابر کو کپتانی سے ہٹانے کی تجویز

سوشل میڈیا پر بابر کو کپتانی سے ہٹانے کی تجویز
اس شکست کے باوجود پاکستان ورلڈ کپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر ہے اور اب بھی اس کے چار میچز باقی ہیں۔ جبکہ افغانستان چار پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔کرکٹ تجزیہ کار مظہر ارشد کے مطابق افغانستان نے آج ون ڈے کرکٹ میں سب سے بڑے ہدف کا تعاقب کیا ہے۔

بہت سے پاکستانی صارفین اسے بڑا اپ سیٹ قرار دے رہے ہیں اور اس پر کافی ناراض ہیں۔ جیسے سلیم خالق نے اسے شرمناک شکست کہا۔ ’افغانستان سے ہارنے پر چیف سلیکٹر، کپتان اور کوچز کسی کے پاس بھی عہدوں پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاکستان کی بولنگ اتنی کمزور ہوگی، فیلڈنگ بھی انتہائی ناقص رہی۔ بیٹنگ میں سوائے افتخار کے کسی نے سٹرائیک ریٹ کا خیال ہی نہیں رکھا۔‘

سابق انڈین بولر عرفان پٹھان کی رائے میں بابر نے ’اوسط درجے کی کپتانی کی۔ انھوں نے میچ ہاتھ سے جانے دیا۔‘مگر ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ ’یہ اپ سیٹ نہیں۔ افغانستان نے عمدہ حکمت عملی بنائی اور اس پر بہترین انداز میں عمل کیا۔

سابق پاکستانی کپتان عروج ممتاز نے کہا کہ ’یہ میچ پاکستانی کرکٹ کی حقیقت کا اصل عکاس ہے۔۔۔ ایشیا کپ کی خامیوں کو دور نہیں کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ کارکردگی کا ’جائزہ اور احتساب ہونا چاہیے۔‘

اس دوران بہت سے صارفین بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ جیسے نمرہ نے تجویز دی کہ ’ورلڈ کپ کے بعد شاداب کو ٹیم سے نکال دینا چاہیے اور بابر کو کپتانی سے۔ حارث رؤف کو صرف ٹی ٹوئنٹی میں کھلانا چاہیے۔‘

عزیر یونس نے طنز کہا کہ ’اس میچ کے بعد بابر کے پاس یہ پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ مجھے کیوں نکالا۔‘

عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ ’افغانستان کا انڈیا میں پاکستان سے جیتنا۔۔۔ یہ فارن پالیسی کا ادارتی خواب ہے۔‘

کپتانی کے ’اضافی بوجھ‘ سے متعلق سوال پر میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بابر اعظم نے خود کہا ہے کہ ’کپتانی کی وجہ سے میری بیٹنگ پر دباؤ نہیں۔۔۔ فیلڈنگ کے وقت میں کپتانی کا سوچتا ہوں اور بیٹنگ کے وقت صرف بیٹنگ کا سوچتا ہوں۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading