’’فرقہ پرست تنظیم ’سناتن سنستھا‘ نے ’بھارت منڈپم‘ میں ’سناتن راشٹر شنکھ ناد مہوتسو‘ کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، شریپد نایک، سنجے سیٹھ اور دہلی حکومت کے وزیر ثقافت کپل شامل ہوئے۔ اس میں مسلمانوں کی جبریہ اجتماعی مذہب تبدیلی، انھیں ملک سے بھگا دینے، آئین کو بدل دینے کی بات ہوئی۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ مودی حکومت کی وزارت ثقافت 63 لاکھ روپے ایسی فرقہ پرست تنظیم کو دیتا ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس ترجمان اور سینئر لیڈر راگنی نایک نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران دی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’سناتن سنستھا گوا کی وہی تنظیم ہے، جس پر کرناٹک پولیس گوری لنکیش اور ایم ایم کلبرگی کے قتل معاملہ میں جانچ کر رہی ہے۔‘‘
’سناتن سنستھا‘ کے ذریعہ منعقد کی گئی تقریب میں مسلمانوں کے خلاف ہوئی زہر افشانی کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے مودی حکومت کے سامنے کچھ تلخ سوالات رکھے ہیں۔ پریس کانفرنس میں راگنی نایک نے پوچھا کہ:
ایک ایسی تقریب میں، جہاں فرقہ ورانہ اور اشتعال انگیز نعرے لگے ہوں، وہاں بی جے پی حکومت نے 63 لاکھ روپے کیوں خرچ کیے؟
کیا نریندر مودی سماج میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن چاہتے ہیں؟
کیا بی جے پی ہندوستان کی گنگا-جمنی تہذیب کو سرکاری پیسہ سے تار تار کرنا چاہتی ہے؟
کیا نریندر مودی اقلیتوں کے خلاف کام کر رہی تنظیموں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں؟
کیا نریندر مودی ملک میں ’تنوع میں اتحاد‘ کو پوری طرح سے تباہ کرنا چاہتے ہیں؟