سری لنکا کے پولیس ہیڈ کواٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایسٹر سنڈے کے حملوں میں مطلوب مشتبہ افراد کے نام اور ان کی تصاویر جاری کر دی گئی ہیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو ان کے بارے میں کوئی بھی اطلاع ہو تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔
پولیس کے مطابق اب تک ان حملوں کی تحقیقات کے دوران 76 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

POLICEImage captionمحمد صادق
سری لنکا کے حکام جنھیں امریکہ اور انڈیا کی جانب سے ان حملوں کے خطرے کے بارے میں وقت سے پہلے خبردار کر دیا گیا تھا، ان حملوں کو روکنے میں سکیورٹی اداروں کی غفلت کا اعتراف کر چکے ہیں۔
حملوں کے بعد پولیس نے سکیورٹی کو انتہائی چوکس کر دیا ہے اور کولمبو کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں چھاپوں اور تلاشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس کے ترجمان ایس ایس پی اجھتے روہانا نے بی بی سی سنہالا سروس کو بتایا کہ کئی مشتبہ افراد کے قبضے سے اسلحہ، بارود اور ہتھیار ملے ہیں۔

جمعرات کی صبح کولمبو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے بندرانائیکے انٹر نینشل ایئرپورٹ کو جانے والے شاہراہ بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تھی۔
بدھ کو حراست میں لیے گئے ایک مشتبہ شخص سے پولیس نے چھ پاسپورٹ جن کی مدت ختم ہو چکی تھی، پارلیمان ہاؤس کے دو نقشے، ٹی چھپن ہتھیاروں کے نقشے، ایک ٹیب کمپیوٹر، دو سم کارڈ اور دو موبائل فون برآمد کیے تھے۔
پولیس کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری خبروں پر یقین کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں۔

تصویر کے کاپی رائٹSRI LANKAN POLICEImage captionفاطمہ لطیفہ
یاد رہے کہ ایسٹر سنڈے پر سری لنکا کے مختلف حصوں میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر ہونے والے حملوں میں 350 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹSRI LANKAN
POLICEImage captionمحمد شاہدی عبدالخاک
سری لنکا میں کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد ملک میں تشدد کی یہ بدترین واردات تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں 38 غیر ملکی بھی شامل تھے۔
سری لنکا کی حکومت نے کہا کہ ان حملوں میں ‘جماعت جوات’ نامی گروہ ملوث ہے۔
خیال رہے کہ دولت اسلامیہ تنظیم نے منگل کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
ملک میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور پولیس کے ساتھ فوج بھی مختلف حساس علاقوں میں تعینات ہے۔ فوج کو عام تلاشی لینے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے بھی اختیارات حاصل ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹSRI LANKAN POLICEImage captionپولستانی راجندرن عرف سارہ
آٹھ خود کش حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک خود کش حملہ آور عورت تھی.
بی بی سی اردو