تھانے-بوریولی سرنگ کو جوڑنے والی سڑک کو گھوڑبندر روڈ تک زیر ز مین بنایا جائے – ڈاکٹر جتندر آوہاڈ ڈاکٹر جیتندر آوہاڑ، مُلّا باغ کے رہائشیوں کی جدوجہد میں شامل

تھانے-بوریولی سرنگ کو جوڑنے والی سڑک کو گھوڑبندر روڈ تک زیر زمین بنایا جائے – ڈاکٹر جتندر آوہاڈ

ڈاکٹر جیتندر آوہاڑ، مُلّا باغ کے رہائشیوں کی جدوجہد میں شامل

تھانے (آفتاب شیخ):
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے قومی جنرل سیکریٹری، سابق کابینی وزیر اور رکن اسمبلی ڈاکٹر جیتندر آوہاڑ نے مُلّا باغ علاقے میں حکومت کی جانب سے بنائی جا رہی تھانے-بوریولی سرنگ سے منسلک سڑک کو زیر زمین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی مخالفت نہیں، لیکن اگر ترقی کی آڑ میں درختوں کی بے تحاشا کٹائی، دھول آلودگی اور ذہنی و جسمانی بیماریاں شہریوں کے حصے میں آئیں گی، تو یہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔

حال ہی میں مُلّا باغ کے رہائشیوں نے اس مجوزہ سڑک کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے سنجے گاندھی نیشنل پارک کے نیچے ایک سرنگ تعمیر کی جا رہی ہے جو تھانے کو بوریولی سے جوڑے گی، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے باعث نہ صرف درختوں کی کٹائی ہوئی ہے بلکہ دھول آلودگی، ٹریفک کا شور اور بیماریوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

ڈاکٹر آوہاڑ نے تھانے کے کاسموس لاؤنج کلب ہاؤس میں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "مُلّا باغ علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ یہاں کے ریائشی پُرامن زندگی کے لیے یہاں آئے تھے، لیکن اب اگر روزانہ 50 ہزار گاڑیاں گزریں گی تو رہائشیوں

کو ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں خود سڑکوں پر اتر کر لڑنے والا انسان ہوں، اور اب جب شہری سڑکوں پر ہیں، تو جلد ہی اس کا نتیجہ بھی سامنے آئے گا۔"

انہوں نے واضح کیا کہ سرنگ کے منصوبے کی مخالفت نہیں ہے، لیکن سرنگ سے جڑنے والی سڑک اگر سطح زمین پر بنائی گئی تو اس سے علاقہ مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا یہ سڑک مکمل طور پر زیر زمین بنائی جائے۔

اس موقع پر شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اُومیش اگروال، نتن سنگھ، پنکج تامھانے، پلوی شیٹھ، مدھورش سنگھ، دیپک پانڈے، اسٹیو تھامس، وویک جاوہارکر اور رچنا ویدیہ نے بھی اپنے دلائل پیش کیے۔

ڈاکٹر آوہاڈ نے یقین دلایا کہ وہ یہ مسئلہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھائیں گے تاکہ شہریوں کو راحت مل سکے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading