سراب کے پیچھے بھاگنے کا نتیجہ

ملک عزیز کو آزاد ہوئے بہتّر برس ہوگئے۔ ان بہتّر برسوں میں وطن میں کئی تبدیلیاں آئیں، حکمران بدلے، سیاسی منظر نامے تبدیل ہوئے، ترقی کے نئے شاہراہیں تیار ہوئے، تعلیمی اور صنعتی لحاظ سے ملک مضبوط ہوااور اس کے سہارے کئی قوموں کی معاشی حالات میں سدھار آیا۔دنیا بھر میں یہ تیز رفتار ترقی مثالی قرار پائی۔ لیکن ان سب کے باوجود اگر ترقی کی اس دوڑ میں کوئی پیچھے رہ گیا تو وہ مسلمان ہے۔ اس کی وجہ ایک تو تقسیم اور اس کے بعد کے سیاسی اور سماجی حالات، دوسری ترقی کے لئے سیاسی حیثیت کو ہی اصل سمجھنے کی بھول ہے۔

ان بہتّرسالوں میں مسلمانوں کی مجموعی (چند ایک اس طرز عمل سے استثناء ہیں)کوشش یہی رہی کہ کسی طرح سیاسی اقتدار کے گلیاروں میں مضبوط نمائندگی حاصل ہوجائے تو ہمارا بیڑاپار ہوجائے گا۔اس کے لئے انہوں نے ہر چوکھٹ پر صدا دی، ہر اُس دروازے کو کھٹکھٹایا جہاں سے تھوڑی سی بھی داد رسی کی امید تھی، ہر بلانے والے کے آواز پر یہ دیکھے بغیر کہ اُس کی نیت کیا ہے لبیک کہا، جس نے پیار کے دو بول بھی بولے چاہے سیاسی مطلب برآری کے لئے ہی کیوں نہ ہو اُسے سر آنکھوں پر بٹھایا، خاص کر اُن مسلمان نام نہاد لیڈروں کو جنہوں نے کبھی اقتدار کے ایوانوں میں بھولے سے بھی مسلم مسائل کو اجاگر نہیں کیا، ہمیشہ اپنی سیاسی بقا اورمطلب کے لئے ہی کام کر تے رہے، محض امید پر اوراس تسلی پر کہ کم از کم نام سے ہی سہی ہمارا ایک نمائندہ وہاں موجود ہے، اپنا تن من دھن اُس کے پیچھے قربان کی۔ تاکہ کسی طرح سیاسی اقتدار کے سہارے ترقی کے تمام مواقعوں میں ہمیں ہمارا حصہ برابر ملتا رہے۔لیکن نتیجہ آج ملت وہیں کھڑی ہے جہاں بہتّر سال پہلے کھڑی تھی۔ تعلیمی پسماندگی میں اول، صنعتی ترقی میں سب سے پیچھے، معاشی لحاظ سے پچھڑی صفوں میں، اور جس سیاسی اقتدار کو پانے کے لئے ترقی کے ہر راستے سے گریز کرتے ہوئے سرپٹ بھاگ رہے تھے وہ تو کیا ملتی، وہاں کے گلیاروں میں جھوٹے منہ بھی اب کوئی نہیں پوچھتا کہ آنجناب کیا چاہتے ہیں اور آپ کے مسائل کیا ہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں اپنے ووٹ بینک کے بکھر جانے کا خدشہ ہے۔

یعنی ان بہتّر سالوں میں ملت، چشمہء آب حیات سمجھ کر جس کے پیچھے دیونہ وار بھاگ رہی تھی وہ محض ایک سراب ثابت ہوا۔ سیاسی اقتدار کے حصول کے اس جنون میں سیاسی اقتدار تو کیا ملتا سیاسی حیثیت بھی کھو گئی۔

قدرت کا یہ عجیب طریقہ ہے کہ وہ جب کسی کو کسی اچھی راہ پر لگا نا چاہتی ہے تو اُنہیں وہ پہلے سے مبتلا راہوں میں بے وقعت کرتی ہے، تاکہ وہ خود اپنی راہ بدل لیں ورنہ پھر انہیں زوال اور ذلت سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بحیثیت ایک عقلمند ملت ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی ہے کہ وطن عزیز میں ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم سیاسی اقتدار میں حصہ داری کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں اور اپنی پوری توانائی تعلیمی اور معاشی ترقی میں لگائیں۔اپنی بھولی ہوئی خیر امت کا سبق پھر سے پڑھ کر عوام الناس کی بہتری اور فلاح کے کاموں کے لئے خود کو وقف کردیں۔ کتنی عجیب بات ہے جس ملت کو قرآن حکیم سے نوازا گیا وہ تعلیمی لحاظ سے جہالت کے انتہا پر ہے۔ جس ملت کو زکواۃ جیسی معاشی خوش حالی حاصل کرنے کا ایک کامیاب نسخہ دیا گیا وہ معاشی میدان میں بد ترین بد حالی سے دوچار ہے۔ اصل کو چھوڑ کر سراب کے پیچھے بھاگنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔
آج ملت وطن عزیز میں ایک دو راہے پر کھڑی ہے، ایک راستہ وہ ہے جو پہلے سے آزمایا ہوا ہے، سیاسی اقتدار میں حصہ داری حاصل کرنے کی کوشش کاجس کا نتیجہ آج یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کا نام لے کر،ان کی حمایت میں دو بول بول کرووٹ مانگنے سے بھی گھبرا رہے ہیں، نام نہاد مسلمانوں کو بھی کوئی جماعت اپنا نمائندہ بنانا نہیں چاہتی، اس کے پیچھے عوامل کچھ بھی ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ مسلمان سیاسی طور پر صفر ہوچکے ہیں۔ دوسری راہ تعلیمی اور معاشی جدوجہد کی راہ ہے، جو کھٹن ضرورر ہے لیکن اصل کامیابی اسی راہ میں چل کر ہی حاصل ہوسکتی ہے۔جب تک امت تعلیمی اور معاشی طور پر اپنی ایک پہچان نہیں بنائے گی، جب تک ہم سیاسی اقتدار کے کرسیوں میں براجمان طبقے کو یہ باور نہیں کرائیں گے کہ امت صر ف ایک ووٹ بینک نہیں اور بھی کئی اعتبار سے ملک کی ترقی کے لئے بے حد ضروری ہے اس وقت تک وطن عزیز میں ہم بے حیثیت ہی رہیں گے۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading