
صوبائی حکومت نے 17 اضلاع کے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے زیر انتطام اسپتالوں میں سی ٹی اسکین ٹیسٹ کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اور تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں سی ٹی اسکین مشینیں نصب کرنے والی کمپنیوں کو ٹیسٹ کی فیس وصول کرنے کا اختیار سونپ دیا گیا ہے۔
2017 میں ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتالوں میں سی ٹی اسکین نصب کرنے والی کمپنیاں اب خود رقم طے کریں گی۔ قیمتیں بڑھنے کے بعد ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتال جانے والے مریضوں کو سی ٹی اسکین کے لیے 2,500 فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس سے پہلے ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتالوں میں سی ٹی سکین رعایتی قیمت پر ہوتے تھے۔
اس سے قبل انڈورمریض ٹیسٹ کے لیے 1,000 روپے جب کہ پنجاب حکومت 2000 کا خرچہ برداشت کرتی تھی، جبکہ آوٹ ڈور پیشنٹ ٹیسٹ کے لیے مریض اور صوبائی حکومت دونوں برابر خرچہ برداشت کرتے تھے۔
ماضی میں حکومت کے سبسٹڈائزڈ ریٹ پرٹیسٹوں کی قیمت کمپنیوں کو جاتی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے 17 اضلاع کے ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتالوں کے میڈیکل سپرٹنڈنٹس کو اس حوالے سے مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے. جس میں ادارہ نے کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سچ نیوز پاکستان – اصل لنک