سال 2024 میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں کیا ہو گا؟

2023 کے اواخر میں فورڈ، جے ایم اور ٹیسلا نے الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے روک دیے تھے۔اکتوبر میں مرسیڈیز بینز نے اس صنعت کو ’ظالم‘ کہا تھا اور اس کی وجہ قیمتوں کی جنگ اور سپلائی چین کے مسائل کو قرار دیا تھا۔

آٹو مارکیٹ کے تجزیہ کار متھیاز شمڈ کی پیشگوئی ہے کہ 2024 کے دوران یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں رکاوٹ برقرار رہے گی۔ جنوری سے فروخت ہونے والی گاڑیوں کا پانچواں حصہ الیکٹرک ہونا لازم ہوگا۔ 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے لیے 80 فیصد کا ہدف طے ہوا تھا۔
یہ ان لوگوں کے لیے اچھی خبریں ہوسکتی ہیں جو الیکٹرک کار خریدنے کے خواہشمند ہیں۔ ’مارکیٹ خریداروں کے لیے سازگار ہوگی کیونکہ کمپنیاں اپنے ہدف پورے کرنا چاہیں گی۔‘

’قیمتوں میں کمی چھائے رہے گی۔ اس کے لیے فنانسنگ کی ڈیلز دی جائیں گی اور اضافی اخراجات کے بغیر ہلکے ماڈل متعارف کرائے جائیں گے۔ کمپنیوں کی کوشش ہوگی کہ قیمتوں میں کمی عیاں نہ ہو۔‘
فیکٹری ملازم روبوٹ
امکان ہے کہ انسانوں کی طرح کام کرنے والے روبوٹ اگلے سال سے مؤثر ثابت ہونے لگیں گے اور بہتر انداز میں ان سے کام لیا جاسکے گا۔
ٹیسلا کے انجینیئر ’اوپٹیمس‘ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ایسا روبوٹ ہے جو فیکٹری کے بنیادی کام کرنے کے قابل ہو گا۔دسمبر میں جاری کی گئی ویڈیو میں اوپٹیمس کا جدید ورژن دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سابقہ مشین سے ہلکا ہے۔ اس کے پاس جدید ہاتھ ہیں جو نئی موٹروں سے چلتے ہیں۔

جولائی میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ اوپٹیمس 2024 سے باقاعدہ طور پر ٹیسلا فیکٹری میں کام کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم پہلے اس کی آزمائش اپنی فیکٹریوں میں کریں گے جس میں یہ اپنی قابلیت ثابت کر سکے گا۔ مجھے امید ہے اور اعتماد ہے کہ اگلے سال سے یہ فیکٹریوں میں مؤثر ثابت ہونے لگے گا۔‘انسانوں جیسی قابلیت رکھنے والے روبوٹ کی صنعت میں ٹیسلا کے کئی حریف ہیں۔ دیگر کمپنیاں بھی ایسے روبوٹ بنا رہی ہیں جو دفاتر یا فیکٹریوں میں کام سیکھ کر انھیں کر سکیں گے۔
ایمیزون اپنے ویئر ہاؤس میں ایک ایسے ہی روبوٹ ’ڈیجٹ‘ کی آزمائش کر رہا ہے۔ یہ انسانوں کی طرح چل پھر سکتا ہے، چیزیں پکڑ سکتا ہے اور انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ سکتا ہے۔
اسے اجیلیٹی روبوٹکس نے بنایا ہے اور اسے امید ہے کہ اگلے سال دوسرے صارفین کو بھی ڈیجٹ روبوٹ مل سکیں گے۔
کینیڈا سینچوئیری اے آئی نے اپنے روبوٹ ’فینکس‘ کو بیگ پیکجنگ کی تربیت دی ہے۔ 2024 میں ان کا منصوبہ ہے کہ فینکس کو مزید کام سکھائے جائیں۔
وزن کم کرنے کی گولی
دوا ساز کمپنیوں کی دنیا میں ایک علاج بہت تیزی سے بِک رہا ہے۔ یہ رفتار اتنی تیز ہے کہ ایک کمپنی طلب پوری کرنے میں بہت پیچھے ہے۔ وزن کم کرنے کی دوا سیمگلوٹڈ کو ’ویگوی‘ کے نام سے بیچا جاتا ہے۔ اس نے بڑی کامیابی سمیٹی ہے جس سے اس کی کمپنی نووو نورڈسک یورپ کی سب سے قیمتی کمپنی بن چکی ہے۔

ڈینش کمپنی نے طلب پوری کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں یوروز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ فی الحال ویگوی ہفتہ وار انجیکشن کے ذریعے مریض کو دی جاتی ہے مگر اس کی گولیاں تقریباً تیار ہوچکی ہیں۔ نوو نورڈسک نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ یہ مارکیٹ میں کب متعارف کرائی جائے گی۔اس کمپنی کو اگلے سال مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایلی لیلی نامی کمپنی کی دوا ’مونجارو‘ کو حال ہی میں امریکہ اور برطانیہ میں وزن میں کمی کے علاج کے طور پر منظوری ملی ہے۔امکان ہے کہ جلد یورپی یونین میں بھی اسے منظوری مل جائے گی۔فائزر کو بھی جلد وزن کم کرنے کی گولی کی منظوری ملنے کی امید ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading