تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں نے حکومت کو درخواست بھیجی کہ ہمارے مرکز میں ہزار کی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں، انھیں یہاں سے نکلنے کی قانونی اجازت دی جائے، انتظام ہم کرلیں گے، حکومت نے کان نہیں دھرا، اور پھر متعلقہ ذمے داران نے بھی آنکھیں موند لیں، پھر حکومت کو اپنی کروڑوں کم زوریاں چھپانے کے لیے اس ایک ہزار کی گنتی کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑی، اور اس نے استعمال کرلیا۔
اس میں بہت بڑا سبق ہے۔
اس ملک میں جہاں فسطائیت ہر طرف ڈیرے ڈالے اور تاک لگائے بیٹھی ہے، اتنی سادگی کے ساتھ دین کا کام نہیں کیا جاسکتا ہے۔
سمجھ داری بہت ضروری ہے۔ آپ کے یہاں خلاف قانون صورت حال پیدا ہوگئی ہے، حکومت کی لاپرواہی اور ناہلی کی وجہ سے۔ لیکن اس سے اس صورت حال کی سنگینی کم نہیں ہوتی ہے، آپ میڈیا اور سوشل میڈیا کے سامنے مسئلہ پیش کریں، آپ دوسرے قانونی راستے تلاش کریں، مگر دوسروں کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھائیں۔
سمجھ داری ہمیشہ سے انسانوں کے لیے ضروری رہی ہے، اور موجود حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے تو حد درجہ ضروری ہوگئی ہے۔
حضرت عمرؓ کا جملہ سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہے، کہ "میں دھوکے باز نہیں ہوں، لیکن کسی دھوکے باز سے دھوکہ بھی نہیں کھاتا ہوں”
اللہ سے دعا ہے کہ وہ تبلیغی جماعت، اور تمام اسلامی جماعتوں نیز تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔

مضمون نگار