سپریم کورٹ کے این آر سی معاملہ میں ڈیڈ لائن بڑھانے سے انکار کر دینے کے درمیان ہندوستانی فوج میں جے سی او رہے ثناء اللہ کا معاملہ گرماتا جا رہا ہے۔ این آر سی کے مطابق وہ قانونی طور پر ہندوتانی شہری نہیں ہیں۔ وہیں ان کے خاندان کے ارکان کا کہنا ہے کہ ان آسام میں این آر سی سے وابستہ افسران نے سازش کے تحت ثناء اللہ کا نام فہرست سے ہٹا دیا ہے۔
ثناء اللہ کے رشتہ دار فضل الحق کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں گواہان ان کے گاؤں سے تھے لیکن علاقہ کے انسپکٹر نے سازش کی اور گواہان کے نام فہرست میں فرضی طریقہ سے شامل کر لئے اور غلط بایانات درج کرائے۔ جب خاندان کے ارکان کو اس کی معلومات حاصل ہوئی تو انہوں نے مقدمہ درج کرایا۔ لیکن پولس کے ایک بھی افسر نے ان کا بیان تک درج نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ جس شخص نے فوج میں رہتے ہوئے ملک کے لئے جنگ لڑی اور وطن کی خدمت کی اس کو بھی اپنی شہریت کو ثابت کرنے کے لئے جد و جہد کرنی پڑ رہی ہے۔
Fazlul Haq, Mohd Sanaullah's relative: Witnesses are residents of Sanaullah's village. The Inspector had conspired, falsely included their names as witnesses & wrote false statement. When they came to know, they filed a case against him. Police never met them or took a statement. pic.twitter.com/JaLsaMJTsx
— ANI (@ANI) June 3, 2019
اس معاملہ میں رٹائرڈ افسر چندر مل داس کا کہنا ہے کہ محمد ثناء اللہ کو بیرونی قرار دئے جانے کے بعد انہیں پولس نے گواہٹی میں حراست میں لے لیا۔ اس تعلق سے تفتیشی افسر کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ان کے بیان کو کبھی درج نہیں کرایا گیا۔
ان کا یہ بھی کہا نے کہ انہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ثناء اللہ نے کس طرح الگ الگ مواقع پر ملک کی خدمت کی ہے لیکن دکھ کی بات ہے کہ مقامی افسرن کی ناپاک منشا کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
