زکوۃ اور ہمارا طرز عمل

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

معاشرے میں امن و امان کے لئے معاشی استحکام بے حد ضروری ہے۔ بغیر معاشی استحکام کے معاشرہ آسانی سے انتشار اور انارکی کا شکار ہوسکتا ہے۔ معاشی استحکام کے لئے جس طرح وسائل کی فراہمی اور اس کی مساویانہ اور منصفانہ تقسیم اہم ہے اسی طرح افراد کے درمیان ہمدردی اور غم خواری بھی ضروری ہے۔اسلام اپنے ہمہ گیر پیغام میں مسلمانوں کو جہاں وسائل کے ساتھ جڑنے کی تلقین کرتا ہے وہیں وسائل کی مساویانہ اور منصفانہ تقسیم کو موجودہ دنیا میں ایک محال امر ہونے کی حقیقت سمجھتے ہوئے آپس میں ہمدردی اور غم خواری کو زکوۃکی شکل میں فرض قرار دیتا ہے۔ معاشرے کے وہ افراد جو وسائل سے راست فائدہ حاصل کرتے ہیں، اسلام انہیں پابند کرتا ہے کہ معاشرے کے ان افراد کی ضروریات پورا کریں جو کسی وجہ سے وسائل سے راست فائدہ نہیں اٹھا پاتے، اگرچہ کہ وہ سوال نہ کریں، تب بھی۔

موجودہ دور مکمل طور پرسرمایہ دارنہ نظام کے شکنجے میں ہے، سرمایہ اور وسائل چند انسانوں کی حرص و لالچ کی وجہ سے انہیں کے ہاتھوں میں مبحوس ہوگیا ہے۔ معاشرے کی اکثریت غربت و افلاس میں مبتلا ہے اور کچھ تو اس سے بھی نیچے فقر و فاقہ میں گرفتار کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اللہ کے رسول کا فرمان ”کاد الفقراأن یکون کفرا“ بھوک اور بد حالی انسان کو کفر کے قریب پہنچا دیتی ہے، آج ایک حقیقت بن کر ہمارے سامنے آچکی ہے۔ہمارے معاشرے کے وہ علاقے جنہیں ہم ”سلم“ کہتے ہیں، جو خط افلاس سے بھی نیچے رہنے والے کی جائے رہائش ہے وہاں کس قسم کے شب وروز گزرتے ہیں ان سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ ضروریات زندگی اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا حصہ اس کی وجہ سے سود کی لعنت میں گرفتار ہے۔ معاشی تنگی کی وجہ سے خاص کر نوجوانوں میں شدید جھنجھلاہٹ اور غصہ ایک وبا کی شکل میں پھیل گیا ہے جس کی وجہ سے سماج میں جھگڑا فساد اور شر روز کا معمول بنتا جارہا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ زکوۃ کا ایک شاندار معاشی نظام ہونے کے باوجود ہمارا معاشرہ کیوں معاشی استحکام حاصل نہیں کرسکا، کیا وجہ ہے کہ صاحب نصاب مسلمانوں کی اکثریت کے ہر سال زکوۃ ادا کرنے کے باوجود معاشرے سے ایک فیصد بھی غربت و افلاس کا خاتمہ نہیں ہو پارہا ہے۔ ہم سے ایسا کیا چھوٹ رہا ہے جس کے کارن ہم زکوۃ کے برکات حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ اگر سنجیدگی سے غور کریں تو وجہ صاف نظر آئے گی، جس طرح نماز روزہ اور حج اپنے ادا کرنے والوں سے مکمل یکسوئی اور توجہ چاہتی ہے، اسی طرح زکوۃ بھی اپنے ادا کرنے والوں سے اپنے تئیں مکمل توجہ چاہتی ہے۔زکوۃکے تعلق سے قران اور سنت کیا کہتی ہے، اسے کس کو دینی ہے، کتنی دینی ہے اور کس کس شکل میں دینی ہے، جب تک مکمل آگہی کے ساتھ زکوۃ ادا نہیں کی جائیگی معاشرہ اس کے فیوض و برکات سے محروم ہی رہے گا۔

اجتماعی نظام زکوۃ کا نہ ہونا بھی ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی محرومی ہے۔ کوشش تویہ ہونی چاہیے کہ کسی طرح سماج میں اجتماعی نظام زکوۃ بحال ہو لیکن کسی وجہ سے اگر ایسا ہوتا ممکن نظر نہ آتا ہو تویہ ہر صاحب نصاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زکوۃ مستحقین تک پہنچانے کی سنجیدگی کے ساتھ کوشش کریں۔ایسا نہ ہو کوئی دروازے پہ آیا آپ نے اس کے ہاتھ کچھ رقم تھمادی، کوئی چندہ کی کتاب لایا آپ نے کچھ رقم لکھوادی، راستہ چلتے آپ کے کسی مصاحب نے چاپلوسی کرتے کرتے اپنا دکھڑا رویا، آپ نے ایک موٹی رقم اس کو پکڑا دی، اور اُدھر آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار فاقہ پر فاقہ کاٹ رہاہو، آپ کا بھائی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے مجبورا سود پر رقم لے کر سود خور کو اپنی خون پلا رہا ہو، آپ کا کوئی پڑوسی کسی ناکردہ جرم میں جیل کاٹ رہا ہو، آپ کا کوئی عزیز یا دوست قرض داری کی ذلت میں مبتلا ہو کر مر مر کے جی رہا ہو، آپ کے شہر میں فقر و فاقہ میں مبتلا کوئی مسلمان دین چھوڑنے پر مجبور ہورہا ہو۔ جب تک آپ اپنی زکوۃ اس کے حقیقی مستحقین تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے اس کے ثمرات سے خود بھی محروم رہیں گے اور اُس کے فیوض و برکات سے معاشرے کو بھی محروم رکھنے کا وبال آپ کے کاندھوں پر ہوگا۔

اچھی طرح سمجھ لیں کہ زکوۃ معاشرے میں معاشی استحکام لانے کے لئے اللہ کی طرف سے بندوں کو دیا گیا ایک سیدھا اور پکا راستہ ہے۔ جب ہم اس راستے پر، راستے کے آداب کی پاسداری کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے ان شاء اللہ ضرور خیر اور بھلائی سے مستفیض ہوں گے۔ سماج میں معاشی ہم آہنگی پیدا ہوگی، لوگوں میں ایک دوسرے کے تئیں خلوص اور محبت جاگے گی، معاشرہ سکون و امن کا گہوارہ بنے گا۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading