ممبئی:آج کل ملک میں ‘ریوینج پورن ‘(بدلے کے طور پرپورن کا استعمال)کے معاملوں میں کافی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لاک ڈائون کے دوران اس مسئلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ایک باعث تشویش ہے۔ اب اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اڈیشہ ہائی کورٹ نے ایک تجویز دی ہے ، جس کے تحت اگر انٹرنیٹ پر کوئی قابل اعتراض ویڈیو یا تصویر شائع کی گئی ہے تو متاثرہ شخص کو ‘فراموش کرنے کا حق ‘ ہونا چاہئے۔
یورپی ممالک کے باشندوں کو مل چکا ہے یہ اختیار
بتا دیں کہ یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو فراموش کرنے کا حق دیا ہے۔ اوڈیشہ ہائیکورٹ ہندوستان میں پہلی ایسی آئینی عدالت ہے جس نے بھارتی شہریوں کو بھی یہ حق دینے کے لئے آواز اٹھائی ہے۔ جسٹس ایس کے پانیگرہی نے اس کو لے کر کہا کہ اگر متاثرہ شخص کے خلاف قابل اعتراض مواد پیش کیا گیا تو متاثرہ کو ‘رائٹ ٹوفارگاٹن ‘کو استعمال کرنے کا حق ہونا چاہئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اسے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت پائے جانے والے ‘رازداری کے حق’ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
کیا ہے ریوینج پورن
کسی بھی شخص کی نجی یا ذاتی لمحوں سے متعلق رکھنے والی جنسی فحش تصویر ، ویڈیو یا آڈیو کو اپنے ساتھی یا پھر کسی بھی شخص کے ذریعہ سوشل میڈیا یا کہیں اور پر سانجھا کیا جاتئے تو اسے ریونیج پورن یا ریوینج پورنو گرافی کہا جاتا ہے انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے زمانے میں اس طرح کے معاملوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ لوگ اپنے پارٹنر کے ستاھ گزارے نزدیکی لمحوں کے قابل اعتراض فوٹوز، ویڈیو رکھ لیتے ہیں اور بریک اپ کے بعد اسے جگ ظاہر کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور پھر جبراََ ناجائز تعلقات بنانے کی بھی دھمکی دیتے ہیں ۔
سب سے زیادہ شکار خواتین
بعض اوقات ، بدلہ فحش بھی افسردگی اور خود کشی کی وجہ بن جاتا ہے۔ بدلہ فحش کا اثرشرمندگی اور صدمے سے زیادہ ہوتا ہے ، جو لوگ اسے برداشت نہیں کرسکتے وہ اکثر افسردگی ، معاشرتی تنہائی اور خود کشی کی کوششوں کا بھی شکارہوتے ہیں۔ بدلہ فحش سے سب سے زیادہ متاثر خواتین ہوتی ہیں۔ متاثرین میں سے 93 فیصد کا کہنا ہے کہ اس کا شکار ہونے کے بعد وہ جذباتی طور پر مکمل ٹوٹ چکی ہیں۔