نئی دہلی: اترپردیش کے ہاتھرس میں 19 سالہ دلت لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور دہلی کے اسپتال میں علاج کے دوران موت کے معاملہ پر ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ دریں اثنا، متاثرہ کے اہل خانہ سے ملنے کے لئے ہاتھرس جانے کی کوشش کر رہے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے ساتھ جمعرات کے روز پولیس کی طرف سے دھکا مکی کئے کی گئی۔ شیوسینا کے رہنما سنجے راؤت نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اسے ملکی جمہوریت کا اجتماعی آبرو ریزی قرار دیا۔