نئی دہلی:پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن دفتر تک مارچ نکال رہے کئی اراکین پارلیمنٹ کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان رہنماؤں میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کئی دیگر ایم پی بھی حراست میں لیے گئے ہیں۔ فی الحال مارچ رک گیا ہے۔ دہلی پولیس کی طرف سے ان رہنماؤں کو بس میں لے جایا جا رہا ہے۔ انہیں سینٹرل دہلی سے باہر جاکر چھوڑا جا رہا ہے۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے اپوزیشن رہنماؤں کو وقت دیا گیا تھا لیکن وہ اس کے دفتر نہیں گئے بلکہ سڑک پر ہنگامہ کر رہے ہیں۔
ان اراکین پارلیمنٹ کو دو بسوں میں بٹھا کر لے جایا گیا ہے۔ راہل گاندھی، اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی، جیسے سینئر رہنماؤں کو لے کر جایا گیا ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ہمیں تو بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ وہیں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جنتر منتر پر یہ لوگ مظاہرہ کر سکتے تھے لیکن اس طرح سینٹرل دہلی کے راستوں پر نکل کر نظام خراب کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہیں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے دفتر جا رہے تھے لیکن انہیں اس سے ٹھیک پہلے ہی روک لیا گیا۔ اس کے بعد انہیں بسوں میں لے جایا گیا۔ انہیں فی الحال سنسد مارگ تھانے میں پہنچایا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چرچا کے لیے بلانے کے بعد بھی راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے رہنما آنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس پر اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ کمیشن سے بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں نکل رہا ہے کیونکہ وہ مسئلہ کو سنتے تو ہیں لیکن کبھی کسی طرح کے حل کی بات نہیں کرتے۔