راشٹروادی کانگریس (شردچندر پوار) اور مہاراشٹر نونرمان سینا کے رہنماؤں نے تقسیم کیا دیوالی راشن
تھانے میں ذات، مذہب اور عصبیت کی دیواریں ٹوٹ گئیں، شمالی ہند کے شہریوں نے بھی اظہارِ تشکر کیا
تھانے – (آفتاب شیخ)
ایک طرف ریاستی حکومت نے ’’آنند راشن‘‘ یوجنا بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تو دوسری طرف راشٹروادی کانگریس (شردچندر پوار گروپ) کے ریاستی نائب صدر سریندر اُپادھیائے اور ہندی بھاشی سیل کے تھانے ضلع صدر سنتوش تیواری نے دیوالی کے موقع پر ہزاروں ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم کیا۔
اس موقع پر راشٹروادی کانگریس (ایس۔پی.) کے ضلع صدر منوج پردھان اور مہاراشٹر نونرمان سینا کے ضلع صدر اویناش جادھو مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ اس پروگرام میں تقریباً دو ہزار پانچ سو خاندانوں کو سوَجی، چینی، میدا، تیل اور ناریل جیسی اشیائے خوردونوش دی گئیں۔
خاص بات یہ رہی کہ راشن حاصل کرنے والوں میں تقریباً پانچ سو ہندی بولنے والے شہری شامل تھے، جنہوں نے اویناش جادھو اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ منوج پردھان نے کہا کہ ’’مہاراشٹر نونرمان سینا ہمارے ساتھ ہے، اس لیے اتر بھارتی اب جائیں گے نہیں بلکہ ہمارے ساتھ آئیں گے۔‘‘
سریندر اُپادھیائے اور سنتوش تیواری پچھلے دس برسوں سے مختلف تہواروں پر غریب شہریوں میں راشن تقسیم کرتے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ ہر ماہ تقریباً سو خاندانوں کو غذائی سامان بھی فراہم کرتے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اویناش جادھو نے کہا، ’’ہم کسی بھی ہندی بولنے والے کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم سب کی مدد کرتے ہیں، اسی لیے اتر بھارتی حضرات بھی مہاراشٹر نونرمان سینا کی مخالفت نہیں کرتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک اتر بھارتی کے پروگرام میں شریک ہوئے ہیں، یہی سب سے بڑا پیغام ہے۔
منوج پردھان نے کہا کہ ’’یہ ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ ضمنی انتخاب میں مہاراشٹر نونرمان سینا کے مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ آنے سے ہندی بولنے والے الگ ہو جائیں گے۔ دراصل، ایم این ایس کی شمولیت سے اگھاڑی کا ووٹ شیئر ضرور بڑھے گا۔‘‘
اس پروگرام میں مہاراشٹر نونرمان سینا کے شہر صدر رویندر مورے، این سی پی (شردچندر پوار) کے کارگزار صدر پرکاش پاٹل، یوتھ صدر ابھجیت پوار، یوتھ کارگزار صدر راجیش کدم، اسٹوڈنٹس ونگ کے صدر راو پاٹل اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔
اویناش جادھو نے مزید کہا کہ ’’ہم مراٹھی زبان کا احترام کرتے ہیں، اور پچانوے فیصد اتر بھارتی بھی مراٹھی کا احترام کرتے ہیں۔ ہمارا اختلاف صرف ان لوگوں سے ہے جو مراٹھی کے خلاف بات کرتے ہیں۔‘‘
