رازداری(پرائیویسی) کا ایک نیا براوزر Browser جو گوگل کروم Chrome کی جگہ لے سکتا ہے


بریو (Brave) ایک نیا اور ایک مکمل رازداری (privacy) والا دنیا کا پہلا براؤزر جو اپنے بیٹا ورزن سے باہر آ گیا ، یہ گوگل کروم کے مقابلے میں کچھ سنجیدہ طریقے سے انٹرنیٹ کی دنیا میں تحفظ فراہم کرتا ہے ، ساتھ ہی فاسٹ بھی ہے اور آپ براوزنگ کرنے کیلئے پیسے بھی کماسکتے ہیں۔

آپ یقینا گوگل کروم میں یا اس میں آنے والی ڈیفالٹ نیوز میں پڑھتے ہونگے یا دیکھتے ہونگے کہ 2019 جون کے اعداد اور شمار کے مطابق گوگل کروم دنیا کا سب سے مشہوربراؤزر ہے جس کو آپ اپنے کمپیوٹر، موبائل فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں.

ڈاؤن لوڈ کریں

گوگل کروم براؤزر کو دنیا بھر میں 70 فیصد سے زیادہ ڈیسک ٹاپ صارفین استعمال کرتے ہیں یعنی 70 فیصد سے زیادہ کمپیوٹر پر استعمال ہوتا ہے،اور یہ بڑھ رہا ہے۔

تجزیات کی فرم اسٹٹیسٹا(Statista)نے وائرڈ ٹیک کو بتایا ہے کہ پچھلے تین سالوں میں گوگل کے غلبے میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لیکن آپ کو آزمانے کیلئے پرائیویسی کےپہلے سے بہت سے متبادل موجود ہیں۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ بریو (brave) نے اپنا پہلا مکمل ورزن لاؤنچ کر دیا ہے جس ورزن کو موزیلا فائر فاکس براؤزر کےشریک بانی برینڈن ایچ نے بنایا ہے.
گزرے ہوئے ہفتے میں بریو براؤزر اپنے بیٹا ورزن سے بہار آیا اور مستحکم یعنی اسٹبل ریلیز کا آغاز کر دیا ہے جس کو ورزن 1.0 کا نام دیا گیا ہے اور یہ بریو (brave) براؤزر اوپن سارس ہے، اس کو آپ مفت میں اپنے کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور سمارٹ فون وغیرہ میں استعمال کر سکتے ہیں .

بریو (brave) کے پروفائل پر ایک نظر اس تصویر میں:

تجزیے کے حساب سے ہر ماہ میں اس براؤزر کو 8 لاکھ افراد استعمال کر رہے ہیں، آپ کے موبائل ڈیوائسز کے لئے اور میک او ایس کے لئے اس کے ورژن موجود ہیں.
موزیلا فائر فاکس کے مقابلے میں اس کے استعمال ہونے کی تعداد ابھی تک تو چوٹی ہے ،
موزیلا فائر فاکس کے ماہانہ 100 ملین سے زیادہ صارفین اورگوگل کروم کے پاس ایک ارب سے زیادہ ہیں۔
بریو (brave) براؤزر نے باقی براؤزر ز سے تیز رہنے کا وعدہ کیا ہےسائنسی معیارات اس کا ثبوت دیتے ہیں۔ مزیدیہ کہ ، جب آپ نیا ٹیب کھولتے ہیں تو بریو (brave) براؤزر آپ کو دکھاتا ہے کہ اس کا استعمال کرکے آپ نے کتنا وقت بچایا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading