سعید پٹیل جلگاؤں
راحت اندوری مرحوم نے غالب ،اقبال ،فیض اور ان جیسے ممتاز شعراء کی وراثت کو آگے بڑھایا۔ان کی شاعری میں میں بیباک پن ،انقلابی تحریک اور مخالفت کی طاقت تھی۔ان کی شاعری سماج کا آئینہ ثابت ہوئ۔سماج میں اٹھنے والے ہربرائ کے دھوئیں کو انھوں نے حد درجہ محسوس کیا اور دلبرداشتہ ہوکر اندرون اور بیرون کے تعصب کو منہ توڑ جواب دیا۔اقتدار اور اختیارات کے نشے میں چور ٹولے کو صاف و شفاف آئینہ دیکھایا تاکہ کوئ حلہ بہانا نہ کرسکے۔
انھوں نے اپنی بیباک شاعری سے عام لوگوں کے من کی بات کہیتے رہےجو عام آدمی کسی بھی شعبے کے بد نظمی کے خلاف بولنا چاھتا ہے۔اور یہیں سے مقبولیت کی چوٹی پر جابیٹھےتھے۔اردو ادب کا یہ طرہ امتیاز رہا ہےکہ اس نے جہاں خوبصورتی ،حسن ،جمال اور پھول و بہار کی شاعری کی وہیں زندگی کے دکھ درد اور نظام زندگی میں آنے والی پریشانیوں کی اعلی نمائندگی کی۔راحت صاحب منفرد لب و لہجہ کے مالک تھے۔بے خوف و خطر ہوکر اپنے خیالات کا اظہار فن شاعری کے ذریعے کرتے رہے۔
اس ملک میں انگریزوں کی آمد اور فرنگیوں سے آزادی حاصل کرنے کی تحریکوں اور بعد از آزادی جو انقلابی اور بیباکانہ شاعری ہوئ اسی کی ایک کڑی راحت صاحب تھے۔غریبوں ،مزدوروں اور مظلوموں کی نمائندہ شاعری کرنے کا حق صرف اردو زبان کی شان ہے اور یہی شان اور جان مرحوم راحت اندوری تھے۔اسی روایت و رواج کو مرحوم نے ترقی دی۔ایسا تو کوئ جاتا نہیں جیسے راحت صاحب ناگہانی طور پر ہمارے درمیان سے گذر گۓ۔مرحوم کا جانا اردو ادبی دنیا کےلۓ بہت ہی تکلیف دہ ہے۔اب ہمیں اسی سلسلے کاوارث پیدا کرنا پڑےگا۔
میں نے تلووں سے باندھی تھی چھاؤں مگر شاید مجھ کو سورج نے پہچان لیا۔ کتنے سکھ سے دھرتی اوڑھ کے سوۓ ہیں ہم نے اپنی ماں کا کہنا مان لیا۔ تمہیں سیاست نے حق دیا ہے ہری زمینوں کو لال کردو جن چراغوں سے تعصب کا دھواں اٹھتا ہو ان چراغوں کو بجھادو اجالے ہوں گے انسان کسی بھی نظام زندگی میں جیۓ آخرکار وہ فانی ہے۔دنیا میں انسانوں کی آمد کی ترتیب ہے۔لیکن جانے کی ترتیب نہیں۔
اسی طرح انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کا مالک نہیں ہے بلکہ آج اس کے پاس توکل اس کے پاس یہ یہ نظام گردش ہے۔اس میں وہی یادگار اور شاندار کہلاتا ہے جو سماج کو کچھ نہ لیتے ہوۓ بہت کچھ دے جاتا ہے۔بس راحت صاحب بھی اردو دنیا اور اردو سماج کو بہت کچھ دے کر گۓ ہیں۔ ہمارا کام ہے کہ ان کے سلسلے کو جاری رکھاجاۓ۔اللا تبارک تعالی مرحوم کی مغفرت فرماۓ اور کروٹ کروٹ سکون عطاکرے و درجات کو بلند کرے۔آمین یارب العالمین
